اسٹیٹ بینک کی جانب سے 27 ارب ڈالر کی مارکیٹ خریداری، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ جاری: گورنر جمیل احمد
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے:گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران مقامی اوپن مارکیٹ سے 27 ارب امریکی ڈالر خریدے ہیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جا سکے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2023 سے اب تک مرکزی بینک نے اوپن مارکیٹ سے مجموعی طور پر 27 ارب ڈالر حاصل کیے، جن میں سے 4.5 ارب ڈالر صرف رواں مالی سال کے دوران خریدے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم اس ابتدائی تخمینے سے تقریباً 3 ارب ڈالر زیادہ ہے جو انہوں نے دو ماہ قبل پیش کیا تھا۔
جمیل احمد نے کہا کہ اس حکمت عملی سے واضح ہوتا ہے کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے مارکیٹ سے ڈالر خریداری پر انحصار بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں 5 ارب ڈالر کی قرض ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ جلد 17 ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گے۔
بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بھی کمیٹی کو ملکی معیشت کی صورتحال اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کیا۔
تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے رکن اسمبلی جاوید حنیف کو اس سوال کی اجازت نہیں دی کہ پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب سے حاصل کیے گئے 3 ارب ڈالر کے نئے قرض پر شرح سود کیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈالر خریداری نے روپے پر دباؤ برقرار رکھا ہے، کیونکہ اگر یہ مداخلت نہ کی جاتی تو مقامی کرنسی نسبتاً مضبوط رہ سکتی تھی۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے باوجود معیشت میں غیر قرضہ جاتی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کی آمدن میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔