اسپین

سپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 68 افراد ہلاک، 80 زخمی، ریلوے نظام کی حفاظت پر سوالات اٹھنے لگے

Read Time:3 Minute, 13 Second

میڈرڈ، یورپ ٹوڈے: سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں واقع علاقے کاسٹیلا لا مانچا میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہو گئے، جن میں 15 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حادثے کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے درمیان تیز رفتار ریل سروس معطل کر دی گئی۔

حادثہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 9 بجے کے کچھ دیر بعد مورا اور اورگاز کے قصبوں کے درمیان پیش آیا، جہاں اسپین کی سرکاری ریلوے کمپنی رینفے (Renfe) کی تیز رفتار ٹرین ایکو (Iryo) کی کھڑی ٹرین سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے باعث ایکو ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جبکہ متعدد بوگیاں ڈھلوان سے نیچے جا گریں۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی اداروں نے جائے وقوعہ پر ایمبولینسیں، ہیلی کاپٹر اور امدادی ٹیمیں روانہ کر دیں۔ امدادی کارکن ملبے میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مصروف رہے، جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔

حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع

اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے کے مطابق، کمپیوٹرائزڈ مواصلاتی نظام میں خرابی کے باعث ریلوے سگنل سرخ ہو گیا تھا اور ٹرینوں کی آمدورفت خودکار طور پر روک دی گئی تھی۔ تاہم، بعد ازاں رینفے کی ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی گئی، حالانکہ اس کے سامنے ایک ٹرین کھڑی تھی، جس کے نتیجے میں تصادم پیش آیا۔

ریلوے آپریٹر رینفے نے کہا کہ اس کی ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت ملنے کے بعد سفر جاری رکھا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق، حادثے کے اصل اسباب اور واقعات کی درست ترتیب کا تعین تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا۔

حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ریلوے سگنلنگ، مواصلاتی نظام یا آپریشنل طریقہ کار میں کسی خرابی نے اس المناک حادثے میں کردار ادا کیا۔

رواں سال دوسرا بڑا ٹرین حادثہ

یہ حادثہ جنوری 2026 میں صوبہ قرطبہ کے علاقے اداموز کے قریب پیش آنے والے ایک اور مہلک تیز رفتار ٹرین حادثے کے تقریباً نو ماہ بعد ہوا ہے، جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے میں بھی انہی ریلوے کمپنیوں کی ٹرینیں شامل تھیں، جس کے بعد ریلوے انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور حفاظتی معیار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

تازہ حادثے نے اسپین کے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کی حفاظت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تقریباً 4 ہزار کلومیٹر پر محیط یہ نیٹ ورک یورپ کے بڑے تیز رفتار ریلوے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اسپین کی مسابقتی اتھارٹی کے اعداد و شمار پر مبنی رائٹرز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں تقریباً ڈھائی کروڑ مسافروں نے تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے سفر کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد کم ہے۔

یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 2018 سے 2022 کے دوران اسپین کے تیز رفتار ریلوے نظام میں ہونے والی سرمایہ کاری کا نسبتاً کم حصہ دیکھ بھال، پرانے نظام کی تجدید اور بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے پر خرچ کیا گیا۔

وزیرِاعظم کا مکمل تحقیقات کا اعلان

اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کی جامع تحقیقات کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران حفاظتی نظام میں سامنے آنے والی کسی بھی خامی کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

حادثے کے بعد ملک میں ذمہ داروں کے تعین، ریلوے نظام کی مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔

اسپین میں رواں سال تیز رفتار ٹرینوں کے دوسرے بڑے مہلک حادثے کے بعد سوگ کی فضا ہے، جبکہ حکام متاثرین کی تلاش، امدادی سرگرمیوں اور حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور او آئی سی کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق، پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ پر زور
پیوٹن Next post روس عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں نمایاں مقام برقرار رکھے ہوئے ہے، افریقی ممالک کے ساتھ اقتصادی و تکنیکی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں: پیوٹن