آذربائیجان

آذربائیجان اور او آئی سی کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق، پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ پر زور

Read Time:1 Minute, 34 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کی پارلیمنٹ ملی مجلس کی اسپیکر صاحبہ غفاروا نے 28 اکتوبر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد کی قیادت میں وفد سے ملاقات کی، جس میں آذربائیجان اور تنظیم کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور تعاون کے فروغ کے لیے پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر صاحبہ غفاروا نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی جانب سے شروع کیا گیا عالمی فورم برائے بین الثقافتی مکالمہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے، تعلقات مضبوط بنانے اور مختلف ثقافتوں و مذاہب کے درمیان مکالمے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ملاقات کے دوران آذربائیجان اور او آئی سی کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ اقدامات کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد نے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے آذربائیجان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے تنظیم کی دیرینہ حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے آذربائیجان کے آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعمیرِ نو اور بحالی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینے، ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے آذربائیجان اور او آئی سی کے درمیان مسلسل روابط، مکالمے اور سفارت کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں اصلاحات فوری نافذ کرنے کی ہدایت، مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کا حکم
اسپین Next post سپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 68 افراد ہلاک، 80 زخمی، ریلوے نظام کی حفاظت پر سوالات اٹھنے لگے