
برطانیہ کی اسلحہ و دفاعی سازوسامان کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
لندن، یورپ ٹوڈے: میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے 2025 کے دوران اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کی ریکارڈ 22 ارب یورو مالیت کی برآمدات کیں، جو اب تک کی بلند ترین سالانہ سطح ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ برس دفاعی برآمدات میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک یوکرین میں روس کی جنگ اور خطے سمیت عالمی سطح پر درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ اور دفاعی پیداوار میں توسیع کر رہے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی برآمدات 2023 میں ریکارڈ کی گئی 16.6 ارب یورو کی دفاعی برآمدات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
برطانوی وزیرِ دفاع لیوک پولارڈ نے کہا کہ برطانیہ اتحادی ممالک اور دفاعی صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عالمی دفاعی منڈیوں میں اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا، “ہم اپنے اتحادیوں اور دفاعی صنعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ برطانیہ عالمی دفاعی برآمدات میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے،” اور مزید کہا کہ “2026 میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔”
2025 میں برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ دو اہم دفاعی معاہدے بنے۔ اگست میں ناروے نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی خریداری معاہدہ کرتے ہوئے کم از کم پانچ برطانوی ڈیزائن کردہ ٹائپ 26 فریگیٹس کی خریداری پر 11.4 ارب یورو کا معاہدہ کیا۔ یہ جنگی جہاز برطانیہ کی کمپنی بی اے ای سسٹمز تیار کرے گی، جس کا مقصد شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی روسی فوجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
دوسرا بڑا معاہدہ ترکیے کو 20 یورو فائٹر ٹائفون جنگی طیاروں کی فروخت سے متعلق تھا، جس کی مالیت 9.1 ارب یورو بتائی گئی ہے۔ یورو فائٹر پروگرام ایک کثیرالقومی منصوبہ ہے جس میں برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین شامل ہیں اور برآمدی فیصلوں کے لیے تمام شراکت دار ممالک کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ یہ معاہدہ جرمنی کی جانب سے انسانی حقوق اور جمہوری امور سے متعلق تحفظات کے باعث پہلے عائد اعتراضات ختم کیے جانے کے بعد حتمی شکل اختیار کر سکا۔
ترکیے نے ابتدائی طور پر 40 تک طیارے خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ یورو فائٹر ٹائفون طیارہ ایئربس، بی اے ای سسٹمز اور لیونارڈو پر مشتمل یورپی کنسورشیم تیار کرتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ ریکارڈ برآمدی اعداد و شمار بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور یورپ سمیت دیگر خطوں میں جدید فوجی صلاحیتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں برطانوی دفاعی صنعت کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔