ایچ آئی وی

ایچ آئی وی کیسز کی روک تھام کیلئے ٹاسک فورس کی ڈی پورٹ افراد کی ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کی تجویز

Read Time:2 Minute, 54 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزارتِ قومی صحت خدمات کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ایچ آئی وی کیسز کی روک تھام کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس نے بیرونِ ملک سے واپس بھیجے جانے والے افراد کی ہوائی اڈوں اور داخلی مقامات پر اسکریننگ کی تجویز پیش کی ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی تھی، جس کا دوسرا اجلاس وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ٹاسک فورس کے اراکین، متعلقہ اداروں کے نمائندگان، سابق معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، ریٹائرڈ میجر جنرل اظہر محمود کیانی، اسپیشل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل صحت سمیت متعدد اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی ڈین ڈاکٹر سائرہ افضل، ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان، ماہر متعدی امراض ڈاکٹر صبیحہ قاضی اور صوبائی سیکرٹریز صحت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں قومی ادارۂ صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان، صوبائی محکمہ جات صحت، یو این ایڈز اور کامن مینجمنٹ یونٹ کے حکام بھی موجود تھے۔

وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ٹاسک فورس کا مقصد ایچ آئی وی کیسز کی وجوہات کا تعین، ذمہ داران کی نشاندہی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہے۔

انہوں نے ہدایت دی کہ آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے واقعات کی جامع تحقیقات کی جائیں اور محفوظ طبی طریقوں کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

ٹاسک فورس نے سفارش کی کہ قومی ادارۂ صحت، امراض پر قابو پانے والے اداروں اور کامن مینجمنٹ یونٹ کے درمیان حقیقی وقت پر مبنی معلوماتی نظام کے لیے مربوط ڈیش بورڈ فعال کیا جائے تاکہ ایچ آئی وی کیسز کی نگرانی، رجحانات کے تجزیے اور رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

اجلاس میں ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے قومی عوامی صحت قانون تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد غیر محفوظ طبی طریقوں کے ذریعے بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

ٹاسک فورس نے ملک بھر میں انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے، ایچ آئی وی ٹیسٹ کو اسکریننگ کے عمل میں لازمی قرار دینے، اور اسپتالوں میں آپریشن سے قبل ایچ آئی وی ٹیسٹنگ یقینی بنانے کی سفارش بھی کی۔

اجلاس میں طبی مراکز، فارمیسیوں اور تقسیم کار نیٹ ورکس کی باقاعدہ جانچ، خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے اور دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کی فروخت یا غلط لیبلنگ کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا گیا۔

ٹاسک فورس نے سفارش کی کہ ملک بھر کے تمام صحت نگہداشت کمیشنز کو فعال، مستحکم اور بااختیار بنایا جائے تاکہ مریضوں کے تحفظ کے اصولوں اور ضابطہ جاتی نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ زیادہ خطرے والے گروپس اور متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، علاج اور احتیاطی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنایا جائے جبکہ ایچ آئی وی کو قابلِ اطلاع بیماریوں کی فہرست میں شامل کرکے ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے۔

ٹاسک فورس نے بارڈر ہیلتھ سروسز کو ہدایت دی کہ بیرونِ ملک سے واپس بھیجے جانے والے افراد کی ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی مقامات پر اسکریننگ یقینی بنائی جائے تاکہ ایچ آئی وی سمیت خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسلام آباد میں بچوں کی لائبریری اور شجرکاری مہم کا افتتاح، بلغاریہ کی سفیر اور بیرسٹر عقیل ملک کی شرکت Previous post اسلام آباد میں بچوں کی لائبریری اور شجرکاری مہم کا افتتاح، بلغاریہ کی سفیر اور بیرسٹر عقیل ملک کی شرکت
متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی کی خبریں بے بنیاد ہیں، وزارتِ داخلہ Next post متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی کی خبریں بے بنیاد ہیں، وزارتِ داخلہ