شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ تپ دق پر پیغام، مرض کے خاتمے کو قومی ترجیح قرار

Read Time:1 Minute, 54 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے:وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے تپ دق (ٹی بی) کے خاتمے کو اپنی عوامی صحت کی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے اور ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت مرض کی بروقت تشخیص، معیاری علاج تک سب کی رسائی، بیماری کی روک تھام اور مریضوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عالمی یومِ تپ دق (24 مارچ) کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جدید تشخیصی سہولیات میں توسیع، لیبارٹری نیٹ ورک کی بہتری اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ ٹی بی سے متعلق خدمات کو بنیادی مراکزِ صحت میں ضم کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں علاج کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

وزیرِاعظم نے کہا، “آج عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس قابلِ علاج اور قابلِ روک تھام بیماری کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بھی ٹی بی دنیا کی بڑی متعدی بیماریوں میں شامل ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے صحت، سماجی اور معاشی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ بیماری بالخصوص کمزور طبقات کو متاثر کرتی ہے اور غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات جیسے مسائل کو مزید بڑھاتی ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ عالمی یومِ تپ دق ہر سال عوامی آگاہی بڑھانے اور اس وبا کے خاتمے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کے عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، محققین اور نجی شعبے کے طبی ادارے سماجی بدنامی کے خاتمے، بروقت تشخیص اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی شراکت داری اور مستقل عالمی فنڈنگ ناگزیر ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات، نجی شعبے، میڈیا اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ کوئی بھی ٹی بی کا مریض علاج سے محروم نہ رہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا فیفا سیریز 2026 کے ذریعے عالمی فٹبال میزبانی کی صلاحیت اجاگر کرے گا: ایرک توہیر
پاکستان Next post عید کے دوران پاکستان ریلویز کی ریکارڈ آمدنی، تین دنوں میں کروڑوں روپے حاصل