
انڈونیشیا کے صدر پراوبوو سوبیانتو کی اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ اہم اجلاس
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پراوبوو سوبیانتو نے منگل کے روز جکارتہ کے مردیکا پیلس میں انڈونیشین نیشنل آرمڈ فورسز (TNI) کی اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں فوجی سطح پر جاری اسٹریٹجک پروگراموں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں TNI کے کمانڈر جنرل اگس سبیانتو اور نائب کمانڈر جنرل تانڈیو بُدی ریویتا نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر دفاع سفریے شمسو الدین، ریاستی انٹیلی جنس ایجنسی (BIN) کے سربراہ محمد ہرینڈرا، وزیر مملکت برائے سیکریٹریٹ پرسیتیو ہادی اور کابینہ سیکریٹری ٹیڈی اندرا وجایا بھی موجود تھے۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں زمینی، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان بھی شریک ہوئے، جن میں آرمی چیف جنرل مارولی سمینجا نتک، نیوی چیف ایڈمرل محمد علی اور ایئر فورس چیف مارشل محمد ٹونی ہرجونو شامل تھے۔
اجلاس کے دوران صدر کو TNI کے تحت جاری مختلف اسٹریٹجک منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، جن کا مقصد ملک بھر میں متوازن ترقی کو فروغ دینا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
آرمی چیف جنرل مارولی سمینجا نتک نے پاپوا میں جاری بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک 200 سے زائد دیہات کو بجلی فراہم کی جا چکی ہے، جن میں زیادہ تر علاقے بلند پہاڑی خطوں میں واقع ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گارودا سسپنشن برج پروگرام کے تحت دیہی علاقوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے اور اب تک تقریباً 2 ہزار مقامات اس منصوبے سے مستفید ہو چکے ہیں۔
صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ انڈونیشین آرمی نے ملک بھر میں تقریباً 2 ہزار مقامات پر پائپ لائن نیٹ ورک اور کنوؤں کی کھدائی کا کام مکمل کیا ہے، جس سے تقریباً 10 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
بیان کے مطابق فوجی قیادت نے صدر کو اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا، جن کا مقصد فوجی اہلکاروں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور دفاعی تیاریوں کو برقرار رکھنا ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ان تمام اقدامات کے ذریعے انڈونیشین مسلح افواج ملک میں مساوی ترقی، علاقائی رابطوں میں بہتری اور دور دراز علاقوں تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔