
وزیراعظم شہباز شریف کا آئی ٹی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر زور، جامع روڈ میپ طلب
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر کی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی تعلیم کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کے روز پاکستانی یونیورسٹیوں میں آئی ٹی تعلیم کا جامع جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے آئی ٹی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جامعات میں فراہم کی جانے والی آئی ٹی تعلیم اور تربیت کو بین الاقوامی منڈیوں اور جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ بنایا جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے جو عالمی صنعتوں کے تقاضوں پر پورا اترتی ہوں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بیشتر جامعات میں آئی ٹی تعلیم موجودہ تکنیکی ضروریات کے مطابق نہیں ہے۔
اجلاس کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے حال ہی میں منعقد کیے گئے نیشنل اسکلز کمپیٹینسی ٹیسٹ کے نتائج پر بریفنگ دی گئی۔ اس ٹیسٹ کا مقصد آئی ٹی گریجویٹس کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور یہ جانچنا تھا کہ آیا جامعات کے نصاب طلبہ کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے 190 اعلیٰ تعلیمی اداروں کے 33 ہزار 38 طلبہ نے اس ٹیسٹ میں حصہ لیا، جو مختلف شہروں میں قائم مراکز پر سخت نگرانی اور شفاف طریقہ کار کے تحت منعقد کیا گیا۔
ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق طلبہ کی صلاحیتوں میں نمایاں خامیاں سامنے آئیں۔ صرف 0.4 فیصد طلبہ 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کر سکے، جبکہ 3.6 فیصد طلبہ نے 68 سے 79 فیصد کے درمیان نمبر حاصل کیے۔ 13.2 فیصد طلبہ نے 58 سے 67 فیصد اور 21.3 فیصد نے 50 سے 57 فیصد تک نمبر حاصل کیے، جبکہ 61 فیصد طلبہ 50 فیصد نمبر بھی حاصل نہ کر سکے۔
وزیراعظم نے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر تسلی بخش قرار دیا اور بالخصوص آئی ٹی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ملک بھر کی جامعات میں جاری آئی ٹی تعلیم اور تربیتی پروگراموں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی کی تاکہ موجودہ خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے اور ان کے ازالے کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کی جائیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں طلبہ کو جدید مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے جلد از جلد ایک جامع روڈ میپ پیش کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیسٹ کے نتائج کی روشنی میں اصلاحاتی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر میں آئی ٹی پروگراموں کے نصاب، تدریسی معیار اور صنعتی ضروریات سے مطابقت بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر زور دیا کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اس کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول اور ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔