پنجاب

پنجاب میں اسموگ میں نمایاں کمی، ماحولیاتی بہتری کے ساتھ صفائی نظام کی توسیع کا اعلان

Read Time:2 Minute, 51 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ سال 2025 ماحولیاتی بہتری اور اسموگ میں نمایاں کمی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے، جو صوبائی حکومت کی ماحول دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں کورونا وبا کے بعد پہلی بار ایئر کوالٹی انڈیکس میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ پنجاب ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ملک کا سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا صوبہ بن کر سامنے آیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کے ذرات کی اوسط سطح میں 8.7 فیصد کمی ہوئی، جبکہ پنجاب میں یہ کمی 33.2 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ سال 2025 کے دوران ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے لیے 81 ہزار سے زائد دورے اور ایک لاکھ 13 ہزار معائنے کیے گئے۔ حکام نے 7,900 سے زائد نوٹسز جاری کیے، ہزاروں صنعتی یونٹس سیل کیے، 2,300 سے زائد مقدمات درج کیے اور 19 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے۔ مزید برآں، 4 لاکھ 19 ہزار کلوگرام سے زائد مضر صحت مواد ضبط کیا گیا۔

بیان کے مطابق اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات کی سخت نگرانی کی گئی، جبکہ 2,200 سے زائد واٹر ری سائیکلرز اور مسٹ اسپرے سسٹم نصب کیے گئے، جس کے نتیجے میں لاہور میں آلودہ ذرات کی سطح 102 سے کم ہو کر 89 تک آ گئی۔

اسموگ گنز کے استعمال اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف مؤثر اقدامات بھی فضائی معیار میں بہتری کا باعث بنے، جبکہ 67 واٹر باؤزرز کو فوری ردِعمل کے لیے تعینات کیا گیا۔

دیگر شہروں بشمول راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، لودھراں اور منڈی بہاؤالدین میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی، جبکہ راولپنڈی میں پی ایم 2.5 کی سطح 50 سے کم ہونے کے بعد اسے صاف ترین بڑے شہروں میں شمار کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلی بار جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور فیلڈ انفورسمنٹ کو یکجا کر کے ایک جامع انسدادِ اسموگ حکمتِ عملی نافذ کی گئی۔ زیگ زیگ ٹیکنالوجی پر بھٹوں کی منتقلی، گاڑیوں کے اخراج کی جانچ اور تعمیراتی سرگرمیوں پر سخت کنٹرول نے آلودگی میں کمی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ فوری ردِعمل یونٹس نے فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے محکمہ تحفظ ماحول اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اظہارِ اعتماد کیا کہ پنجاب جلد ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں ایک مثالی صوبہ بن جائے گا، اور جاری سال میں اس شعبے میں مزید بہتری حاصل کی جائے گی۔

دوسری جانب حکومت نے "ستھرا پنجاب پروگرام” کے تحت لاہور میں صفائی کے نظام کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ریلوے لائنوں اور منتخب کنٹونمنٹ علاقوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کے ابتدائی اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیر نے بڑی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کچرے کو مناسب فیس کے عوض ٹھکانے لگانے کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت لاہور میں 10,500 فٹ طویل سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، مویشیوں کے فضلے سے توانائی حاصل کرنے کے لیے بائیو گیس پلانٹس کے قیام کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے، جس کا پائلٹ پراجیکٹ کامیاب نتائج دے رہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کے تعلقات نئی بلندیوں پر، اسٹریٹجک شراکت داری میں توسیع اور ثقافتی روابط کو فروغ
وزیرستان Next post شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، 8 خارجی ہلاک