امریکہ

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات کا دوسرا دور متوقع، اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی آمد کا اعلان

Read Time:3 Minute, 30 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم اور حساس مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کے لیے اسلام آباد تیار ہے، جب کہ وائٹ ہاؤس نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اس ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔

امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

ایک ہفتہ قبل امریکہ اور ایران کے حکام کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تھے جو کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے، تاہم ذرائع کے مطابق گزشتہ دور اور آئندہ مذاکرات کے درمیان پسِ پردہ سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے محتاط امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

یہ پیش رفت ایک بار پھر پاکستان کو خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حساس سفارتی کوششوں کے مرکز میں لے آئی ہے، تاہم ایران کی شرکت اور عارضی جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کی مدت بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔

جہاں امریکہ نے اپنے وفد کی تصدیق کر دی ہے، وہیں ایران نے تاحال اس عمل کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے شرکت سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “درست نہیں” قرار دیا اور امریکا پر “غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات” کرنے کا الزام عائد کیا۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی پابندیاں، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اور “دھمکی آمیز بیانات” بامعنی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ٹیلیگرام پر جاری بیان میں آئی آر این اے نے کہا کہ موجودہ حالات میں تعمیری مذاکرات کے امکانات زیادہ روشن نہیں دکھائی دیتے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے بھی وفد کی ممکنہ شرکت پر شکوک کا اظہار کیا ہے، تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام منگل تک اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

یہ سفارتی غیر یقینی صورتحال خلیج عمان میں حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز پر کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا، جو امریکی ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

صدر ٹرمپ نے مزید الزام لگایا کہ ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس میں ایک فرانسیسی جہاز اور برطانوی مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کے ایرانی اقدام کو “عجیب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی کے باعث یہ راستہ پہلے ہی مؤثر طور پر بند ہو چکا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا ایران کو “منصفانہ اور معقول معاہدہ” پیش کر رہا ہے، تاہم اس سے انکار کی صورت میں سخت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے دونوں فریقین کو مذاکراتی عمل میں برقرار رکھنے کے لیے بیک چینل کوششیں تیز کر دی ہیں اور خود کو ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے عوامی بیانات سخت ہیں، تاہم یہ زیادہ تر داخلی سیاسی مقاصد کے لیے ہیں اور مذاکراتی عمل بدستور جاری ہے۔

ادھر غیر ملکی وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پیشگی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کے باعث جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق اسلام آباد میں 18 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پنجاب سے مزید 7 ہزار اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔ پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے دستے تعینات ہیں، ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے اور اہم مقامات خصوصاً وی وی آئی پی مہمانوں کے لیے مختص ہوٹلوں کے اطراف سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

سفارتی حلقے موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باوجود محتاط امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش جاری رکھیں گے، تاہم حتمی کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کے حل پر ہوگا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کینیڈا Previous post پاکستان اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار
پزشکیان Next post وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال اور امن پر تبادلہ خیال