
اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر پائیدار ترقی اور علاقائی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور: صدر الہام علییف
باکو، یورپ ٹوڈے: الہام علییف نے اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UN ESCAP) کے 82ویں اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے سب سے جامع اور مؤثر علاقائی پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے، جو پائیدار ترقی، علاقائی روابط، تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، آذربائیجان اس اہم عمل میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے۔
صدر علییف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال کے دور سے گزر رہی ہے جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگیاں اور تنازعات عالمی امن و سلامتی کی نزاکت کو اجاگر کر رہے ہیں، جبکہ دہائیوں میں حاصل ہونے والی ترقیاتی کامیابیاں بھی خطرے سے دوچار ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں سے آذربائیجان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے بعد جنوبی قفقاز میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جہاں آذربائیجان نے اپنی مکمل خودمختاری اور علاقائی سالمیت بحال کر لی ہے اور آرمینیا کے ساتھ امن عمل کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کی بحالی میں تاریخی پیش رفت حاصل ہوئی۔
صدر علییف کے مطابق آج امن کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تجارتی روابط کا آغاز ہو چکا ہے اور آذربائیجان آرمینیا کو ٹرانزٹ رسائی بھی فراہم کر رہا ہے، جبکہ سول سوسائٹی کے نمائندوں کے باہمی دورے اعتماد سازی میں مدد دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان آزاد کرائے گئے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جہاں "گریٹ ریٹرن پروگرام” کے تحت 80 ہزار سے زائد افراد قراباغ اور مشرقی زنگزور کے علاقوں میں واپس آ چکے ہیں تاکہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ آباد کر سکیں۔
تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بارودی سرنگیں ایک سنگین انسانی اور ترقیاتی چیلنج بنی ہوئی ہیں، جس کے باعث 2020 میں تنازع کے خاتمے کے بعد اب تک 400 سے زائد آذربائیجانی شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، اور اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔