اقبال

فکر ِ اقبال اور موجودہ عالمی منظرنامہ

Read Time:5 Minute, 3 Second

علامہ محمداقبال ؒ بیسویں صدی کے ایک عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کاپیغام نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے تھا۔ ان کی فکر خودآگاہی اور خوداعتمادی کے گرد ہی گھومتی ہے اور ان کا فلسفہ خودی نہ صرف مسلمانانِ برصغیر بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے:
؎ کوئی قابل ہوتو ہم شان ِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو بھی نئی دنیادیتے ہیں

علامہ اقبالؒ نے جس دور میں آنکھ کھولی تو ان کے ہر طرف غلامی کا دوردورہ تھاجس نے علامہ اقبالؒ کے قلب وذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا لیکن انہوں نے اس پر ماتم نہیں کیابلکہ مسلمانوں کو شاندار ماضی کی یاد دلا کر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے اور ایک باوقار قوم کی طرح جینے کا ہنر اور سلیقہ دیا۔ وہ مشرقی اور مغربی طرزِزندگی کا بغور مطالعہ کر کے اس نتیجے پر پہنچے کہ مغربی تہذیب مسلم امہ کے لیے تباہ کن ہے اور اس کی بقاء کا دارومدار صرف اور صرف اپنی مسلم تہذیب وثقافت پر قائم رہنا ہی ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے مسلمان قوم کی راہنمائی کے لیے شاعری کو ہی ذریعہ بنایا اور اپنی شاعری میں عشق و محبت کے نغمے اور گیت نہیں گائے بلکہ انہو ں نے اس کے ذریعے مسلم امہ میں ان کی تقدیر بدلنے اور آنے والی کٹھن آزمائشوں سے عہدہ برا ہونے کی فکر پیدا کرنے کی سعی و کوشش کی:
؎ آسماں ہوگا سحر کے نورسے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی، سیماب پا ہوجائے گی

علامہ اقبال ؒ نے اپنی دوربین نگاہوں سے مسلمانوں کے اندر روحانی قوت کا ادراک کر لیا اور پرُیقین ہوگئے کہ وہ اپنے عزم و استقامت سے متحرک ہوکر دوبارہ عروج حاصل کرسکتے ہیں اسی مقصد کو سامنے رکھ حضرت علامہؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے ان میں حقیقی روح پیدا کرنے کی کوشش کی اور ان کا مرکزومحور قوم کے نوجوان ہی تھے جن سے انہیں بڑی امیدیں وابستہ تھیں جو اس منزلِ گم گشتہ قوم کی کشتی کو منزل ِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں:
؎ اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
جس کے جوانوں کی خودی ہو صورت ِ فولاد
جب بھی کوئی جارح کسی دوسری کمزور قوم پر حملہ آور ہوتی ہے تو اس کے مشاہیر کی عزت وتوقیر اور ان کی شخصیت وکردار کو مسخ کرنے کی کوشش کرتی ہے جو برصغیر پر قبضہ کرنے والی ایک نام نہاد مہذب قوم نے پوری شدومد سے کیا لیکن حضرت علامہ ؒ نے اپنے اشعار وافکار میں اپنے انبیائے کرامؑ، صحابہ کرامؓ، آئمہ کرامؒ، صوفیائے کرامؒ اور بہادر حریت پسندوں کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو اجاگر کیا تاکہ مسلمان کے ذہنوں میں ان کا عظیم تشخص زندہ و تابندہ رہے اور ان کے افکار وکردار سے راہنمائی حاصل کر کے وہ اپنی کھوئی ہوئی شان وشوکت دوبارہ حاصل کر سکیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنے اندر اپنے ان عظیم اسلاف جیسے اوصاف وکردار، سچائی اور دیانتداری اور عزم وہمت پیدا کر کے اور اپنے مذہب ِاسلام کے زرین اصولوں کو مشعل راہ بناکر اپنی مزل کی طرف گامزن ہوناپڑے گا:
؎ قوم مذہب سے ہے، مذہب جونہیں تم بھی نہیں
جذب ِ باہم جونہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں
علامہ محمد اقبالؒ اپنی فکر و پیغام کے حوالے سے موجودہ دور میں بھی سب سے مؤثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی مخاطب تو برصغیر کے مسلمان ہی تھے لیکن ا ن کی فکر سے نہ صرف دنیائےاسلام بلکہ دنیاکی دوسری قوموں نے بھی راہنمائی حاصل کی۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی مسلمانان ِبرصغیر پر طاری جمود کو توڑنا اور نئی امنگ سے اپنی نشاۃ ثانیہ کی بحالی اور اپنے سیاسی و نظریاتی مستقبل کی طرف گامزن کرنا تھاجس کا نتیجہ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک خواب ِغفلت میں غرق ایک قوم نے چند ہی سالوں میں نہ صرف اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت حاصل کرکے اسے دنیامیں ایک ممتاز مقام دلوادیا:
؎ خرد نے مجھ کو عطاکی نظرِ حکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیثِ رندانہ
موجودہ عالمی منظرنامے میں حضرت علامہ ؒ کی فکر کی اہمیت بہت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے اور آزادی پسند اقوام اسی سے غلامی سے نجات، اپنی آزادی کا تحفظ، فکری وسعت حاصل کے6 عالم میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہیں۔ ان کی فکر سے ہی تصورملت اور نظریہ قومیت کو موجودہ عالمی تناظر میں پرکھا جا سکتا ہے اور ان کی فکر کو اپنا کر قومی و ملی عقائدونظریات اور تاریخ و تہذیب کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آج دنیا جس نظریاتی بحران، فکری کشمکش اور سیاسی تنازعات میں گھری ہوئی ہے انہیں حل کرنے میں صرف علامہ اقبالؒ کی فکر ہی مشعل ِراہ ثابت ہو سکتی ہے اورفلسفہ خوداعتمادی اور خودشناسی سے اقوامِ جہاں اپنی پہچان، مقصدِ حیات اور اپنے مقام کو سمجھ کر آگے بڑھ سکتی ہیں۔ مغرب کے مادیت پرستانہ نظریات اور جدید قومیت کے تصورات سے ہی دنیا سیاسی سازشوں کی لپیٹ میں آگئی ہے جو علاقائی عداوتیں اور باہمی نفرتیں پیدا کرنے کا سبب بنے جنہیں علامہ اقبال ؒ نے بہت پہلے انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا تھا اور اس کے مقابلے میں اسلامی قومیت کا تصور اجاگر کیا جس کی بنیاد نہ اشتراکَ زبان، نہ وطن اور نہ اشتراک اغراض ِمعاش و اقتصاد ہے بلکہ عالمی اسلامی اخوت پر ہے۔ انسانیت کے عدم احترام، دوسروں کے زندہ رہنے کے حق کو نہ تسلیم کرنے کی ضد نے موجودہ عالمی تنازعات کو جنم دے کر عالمی اشتراک اور باہمی تعاون کے تصور کو نقصان پہنچایا اور اپنے معاشی، اقتصادی، سیاسی مفادات اور توسیع پسندی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے بڑی طاقتور قوموں کی کمزور قوموں پر چڑھائی اور ان کی معاشی و اقتصادی ناکہ بندی کر کے انہیں جینے کے حق سے بھی محروم کرنے کی تباہ کن روش نے موجودہ افراتفری اور تصادم کی راہ ہموار کی۔ علامہ محمد اقبالؒ کے افکار کی روشنی میں ہی ان کے درسِ احترام آدمیت اور انسانیت پر عمل کر کے عالمی امن وامان کو فروغ دے کر عالمی منظرنامے پر چھائے مایوسی اور محرومیوں کے سیاہ بادلوں اور ظلم وبربریت اور تباہی وبربادی کے گھمبیر حالات سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے:

؎ نہیں ہے ناامیداقبال ا پنی کشت ِ ویراں سے
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اقوامِ متحدہ Previous post اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی افریقی نمائندگی بڑھانے کی حمایت، سلامتی کونسل اصلاحات پر اصولی مؤقف کا اعادہ
بنوں Next post بنوں میں کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، صدر اور وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین