اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی افریقی نمائندگی بڑھانے کی حمایت، سلامتی کونسل اصلاحات پر اصولی مؤقف کا اعادہ

Read Time:2 Minute, 38 Second

اقوامِ متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقہ کی مؤثر نمائندگی بڑھانے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارے کو زیادہ نمائندہ اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کے جاری اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ کسی رعایت کا نہیں بلکہ ایک اصولی تقاضا ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کی تنظیمِ نو کے لیے پیش کیے گئے “افریقی ماڈل” پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک متفقہ تجویز ہے جسے افریقی یونین کے تمام 55 رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اس ماڈل کے تحت افریقہ کے لیے دو مستقل نشستیں (ویٹو سمیت برابر اختیارات کے ساتھ) اور پانچ غیر مستقل نشستوں کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ خطے کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ کیا جا سکے۔

اس وقت سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہے جن میں پانچ مستقل ارکان — برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ — جبکہ 10 غیر مستقل ارکان دو سالہ مدت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز فروری 2009 میں جنرل اسمبلی میں کیا گیا تھا، جن میں رکنیت کی اقسام، ویٹو کا مسئلہ، علاقائی نمائندگی، کونسل کے حجم اور اس کے طریقہ کار جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان افریقہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسی سلامتی کونسل کے قیام کے لیے کام کرنے کو تیار ہے جو انصاف، جمہوریت اور نمائندگی کے اصولوں کی عکاس ہو اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ افریقہ کا مطالبہ “ایزول وِنی اتفاقِ رائے” اور “سرٹے اعلامیہ” پر مبنی ہے جو خطے کی اجتماعی نمائندگی کی بات کرتا ہے، جبکہ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان جیسے ممالک کی مستقل نشستوں کی خواہش انفرادی نوعیت کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افریقہ کی آواز کسی مراعات کے حصول کے لیے نہیں بلکہ انصاف اور برابری کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، جو اٹلی کے ساتھ مل کر “یونائٹنگ فار کنسینسس” (UfC) گروپ کی قیادت کر رہا ہے، نئی مستقل نشستوں کے قیام کی مخالفت کرتا ہے اور اس کے بجائے منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے کی حمایت کرتا ہے تاکہ علاقائی نمائندگی اور شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کے مطابق UfC اور افریقی مؤقف میں کئی مشترک نکات موجود ہیں، خصوصاً علاقائی نمائندگی، گردش (روٹیشن) اور اتفاقِ رائے کے اصولوں پر۔

انہوں نے کہا کہ مناسب طریقہ کار کے ذریعے افریقہ کو اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے تحفظ کا اختیار دیا جا سکتا ہے، چاہے ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع نہ بھی کی جائے۔

اجلاس کے آغاز میں سیرا لیون کے مستقل مندوب مائیکل عمران کانو نے “افریقی ماڈل” کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی حمایت کرے تاکہ افریقہ کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
بنوں Previous post بنوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، خودکش حملے کے مرکزی سہولت کار سمیت دو خوارج ہلاک
اقبال Next post فکر ِ اقبال اور موجودہ عالمی منظرنامہ