اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کیلئے عالمی تعاون ناگزیر: پاکستان

Read Time:3 Minute, 9 Second

اقوامِ متحدہ، یورپ ٹوڈے: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی کے بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ٹیکنالوجی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا، مضبوط ڈیجیٹل نظام قائم کرنا اور بین الاقوامی فریم ورک کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے۔ یہ تقریب پاکستان کے مستقل مشن اور اقوام متحدہ کا انسداد دہشت گردی دفتر کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

اپنے افتتاحی خطاب میں پاکستانی مندوب نے انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات، جیسے زینو فوبیا، نسل پرستی اور عدم برداشت، کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی دہشت گردی کے خطرے کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے۔

“دہشت گردی کے نئے اور ابھرتے رجحانات” کے موضوع پر منعقدہ اس تقریب میں سفارتکاروں، اقوامِ متحدہ کے ماہرین، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت عاصم افتخار احمد اور اقوامِ متحدہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زویف نے کی، جبکہ مباحثے کی نظامت رفیع شاہ نے کی۔

اپنے خطاب میں پاکستانی سفیر نے دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال، عالمی انسداد دہشت گردی ڈھانچے میں موجود خلا، اور ریاستی سطح پر درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے انسانی جانوں، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بھاری نقصان اٹھایا ہے۔

انہوں نے عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سمیت دیگر گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کی، جو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی کارروائیوں کو منظم کر رہے ہیں۔

انہوں نے 2025 کے جعفر ایکسپریس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، جو نہ صرف دہشت گردی کی سنگینی بلکہ غلط معلومات اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے جاری معلوماتی جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زویف نے کہا کہ دہشت گردی ایک کثیر جہتی اور پیچیدہ خطرہ بن چکی ہے، جس کے تدارک کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں۔

مقررین نے جدید اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا کے غلط استعمال، دہشت گردانہ پروپیگنڈا، مصنوعی ذہانت، اور کرپٹو کرنسی جیسے ڈیجیٹل ذرائع کے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور عالمی سطح پر مربوط اقدامات اور مؤثر حفاظتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب میں دہشت گردی کے عالمی مراکز، افغانستان میں سرگرم گروہوں، اور مغربی افریقہ و ساحل کے علاقوں میں فعال تنظیموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کے خاتمے اور بروقت احتیاطی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ تقریب پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر مکالمے کو فروغ دینے اور دہشت گردی کے خلاف جامع حکمتِ عملی اپنانے کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان اس وقت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن کے طور پر 2025-26 کی مدت کے دوران انسداد دہشت گردی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
علییف Previous post حیدر علییف کی 103ویں سالگرہ کے موقع پر گنجہ میں گرین ایکو انٹرنیشنل فورم کا انعقاد
اسحاق ڈار Next post اسحاق ڈار کی زیر صدارت اہم اجلاس، علاقائی و عالمی صورتحال کا جائزہ، سفارتی روابط بڑھانے کی ہدایت