
انڈونیشیا: عالمی توانائی بحران کے پیش نظر ایندھن کی بچت کی اپیل
بینڈونگ، یورپ ٹوڈے: نیشنل انرجی کونسل (DEN) نے انڈونیشیا کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایندھن کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں ممکنہ عدم استحکام کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔
DEN کے رکن ستیا وِدیا یودھا نے مغربی جاوا کے شہر بینڈونگ میں واقع انڈونیشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ITB) میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے استعمال میں طرزِ زندگی کی تبدیلیاں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں، جو عالمی بحرانوں کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام سے درخواست کرتی ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال اور ایندھن کی بچت کے ذریعے توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، انہیں ان کا دانشمندانہ استعمال کرنا چاہیے۔
ستیا وِدیا یودھا کے مطابق گھریلو سطح پر ایندھن کی کھپت میں کمی سے ملک کا درآمدی بوجھ نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے باوجود انڈونیشیا کی توانائی سلامتی اس وقت محفوظ سطح پر ہے، جس کا انڈیکس اسکور 10 میں سے 7.13 ہے، جبکہ قومی سطح پر ایندھن کے ذخائر 21 سے 28 دن تک کے لیے موجود ہیں۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ توانائی بحران یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس 2016 کے سرکاری ضابطہ نمبر 40 کے تحت مضبوط قانونی فریم ورک موجود ہے۔
طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت حکومت ملکی توانائی ذخائر میں اضافہ، مقامی تیل و گیس کی پیداوار میں تیزی، نئے توانائی منصوبوں کی ترقی اور متبادل توانائی ذرائع کے فروغ کے ذریعے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔