
افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکا، دہشت گردی نہ رکی تو کابل کے ساتھ بھی سخت رویہ اپنائیں گے: خواجہ آصف
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت ہندوتوا کی پراکسی بن چکا ہے اور پاکستان کے حوالے سے دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں رہا، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے مذاکرات کے تمام راستے اختیار کیے، تاہم اگر افغانستان تعاون کے لیے تیار نہ ہوا تو پاکستان سخت مؤقف اپنائے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان کے نکات کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کا ایک صفحے پر ہونا خوش آئند ہے کیونکہ یہ پورے ملک کی بقا کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کابل حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کیے اور قطر، سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی ان مذاکرات میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ ان کے بقول بعض مواقع پر 19، 19 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، تاہم افغان حکومت زبانی یقین دہانی تو کراتی رہی لیکن اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے حوالے سے کسی تحریری معاہدے پر آمادہ نہیں ہوئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دہشت گردی کا سدباب بات چیت کے ذریعے ہو، لیکن اگر افغانستان تیار نہیں تو “جو دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔”
خواجہ آصف نے کہا کہ “تنگ آمد بہ جنگ آمد، پھر تو جنگ ہی ہوگی”، مشرقی سرحد ہو یا مغربی، پاکستان کو ایک ہی دشمن کا سامنا ہے اور کسی قسم کی تفریق نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف براہِ راست تصادم کی جرات نہیں کرے گا، اسی لیے اب پاکستان کے خلاف جنگ کابل حکومت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع نے پاکستانی مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلتستان سے لے کر گوادر تک افواجِ پاکستان ملکی سلامتی کے لیے شہادتیں دے رہی ہیں۔