
آذربائیجان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور اردن سے اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اردن کے ساتھ تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بایراموف نے اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایمن الصفدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ خصوصی اور مضبوط تعلقات قائم ہیں، جبکہ مڈل کوریڈور کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اردنی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے اور پرکشش مواقع پیدا کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک نقل و حمل کا راستہ حالیہ برسوں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں علاقائی روابط مزید مستحکم ہوئے ہیں اور ایشیا، جنوبی قفقاز اور یورپ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
وزیر خارجہ جیحون بایراموف نے آذربائیجان کے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال اگست سے ملک نے اپنی توانائی برآمدات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آذربائیجان نے شام کو توانائی کی برآمدات کا آغاز کر دیا ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے اردن کے ہمسایہ ملک میں توانائی کی فراہمی، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
جیحون بایراموف نے اس بات پر زور دیا کہ آذربائیجان کے علاقائی توانائی نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ رابطوں کی توسیع نہ صرف اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ اس سے آذربائیجان کا وسطی ایشیا، جنوبی قفقاز اور مشرق وسطیٰ کو باہم ملانے والے ایک اہم علاقائی مرکز کے طور پر کردار بھی مزید مستحکم ہوگا۔