
بلوچستان کے معدنی وسائل کے تحفظ کیلئے رخشان ڈویژن میں خصوصی سکیورٹی کوریڈور قائم کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف
کوئٹہ، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں صوبے کے معدنی وسائل اور متعلقہ اقتصادی سرگرمیوں کے تحفظ کیلئے فرنٹیئر کور (ایف سی) تعینات کر کے خصوصی سکیورٹی کوریڈور قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
وزیراعظم نے یہ ہدایات منگل کو کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان سے متعلق صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور انسداد دہشت گردی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان اور ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے متعدد اقدامات کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سکیورٹی کوریڈور میں اضافی ایف سی ونگز، شاہراہوں پر سکیورٹی چیک پوسٹس، نگرانی کے جدید نظام اور سرحدی چوکیاں قائم کی جائیں گی تاکہ خطے میں سکیورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل خصوصاً معدنیات سے مالا مال ہے اور بلوچستان میں محفوظ ماحول کی فراہمی معدنی منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتماد کیلئے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کی جانب سے ضلعی انتظامیہ میں شفافیت اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید تربیت اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔
شہباز شریف نے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار، وظائف، ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز، کھیلوں کی سرگرمیوں اور فیصلہ سازی میں شمولیت کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور مواصلاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو ترقی کے مساوی مواقع اور بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے تمام ادارے متحرک ہیں جبکہ نوجوانوں کی فلاح اور ہنر مندی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ نومبر 2024 کے بعد بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ کینسر انسٹیٹیوٹ، ڈائلیسز سینٹرز اور ٹراما سینٹرز سمیت متعدد صحت منصوبے فعال ہو چکے ہیں جبکہ مزید سہولیات پر کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق بلوچستان کے 99 فیصد اسکول کھلے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ اجلاس میں سولر انرجی منصوبے کی کامیابی پر بھی روشنی ڈالی گئی جس سے 15 ہزار سے زائد گھرانے مستفید ہوئے اور اب تک تقریباً 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ کی گئی ہے۔
اجلاس میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، سید محسن رضا نقوی، عطا اللہ تارڑ، خالد مگسی، جام کمال خان، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔