
کوئٹہ: وزیراعظم شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے دورے کے موقع پر خطاب، آپریشن غضب للحق جاری رہنے کا اعلان
کوئٹہ، یورپ ٹوڈے: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، اور افغان طالبان سے وابستہ پراکسیز کو سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان رجیم کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے دورے کے موقع پر فیکلٹی اراکین اور زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کی صورت میں ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں “معرکہ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بھارت کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کے مقابلے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ اور متوازن طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دانشمندانہ موقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کا مقصد دہشت گرد پراکسیز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور معاون ڈھانچوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عسکری سفارتکاری اور علاقائی تعاون کے فروغ کے ذریعے پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بطور “نیٹ ریجنل سٹیبلائزر” اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں عوام کے اتحاد اور ریاستی عزم کے سامنے بالآخر شکست سے دوچار ہوں گی۔
فیلڈ مارشل نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اعلیٰ تربیتی معیار اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز اور تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے آگاہ رہنے اور عملی تیاری کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔