انڈونیشیا

انڈونیشیا کی معیشت 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 5.61 فیصد ترقی کر گئی، اقتصادی بنیادیں مضبوط قرار

Read Time:2 Minute, 29 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے شماریاتی ادارے (بی پی ایس) نے کہا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کی اقتصادی بنیادیں مضبوط رہیں، جنہیں گھریلو کھپت، سرمایہ کاری اور حکومتی اخراجات میں تیزی سے تقویت ملی۔

بی پی ایس کی سربراہ امالیا ادیننگر ویدیاسانتی نے منگل کو جکارتہ میں بتایا کہ جنوری تا مارچ 2026 کے دوران انڈونیشیا کی معیشت میں سالانہ بنیاد پر 5.61 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی میں گھریلو کھپت، سرمایہ کاری اور حکومت کی مالیاتی مراعاتی پالیسیوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

امالیا کے مطابق گھریلو کھپت بدستور اقتصادی ترقی کا سب سے بڑا محرک رہی، جو قومی اقتصادی اخراجات کے نصف سے زائد حصے پر مشتمل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گھریلو کھپت میں 5.52 فیصد اضافہ ہوا، جس نے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 54.38 فیصد حصہ ڈالا اور مجموعی اقتصادی ترقی میں 2.94 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے دوران عوامی نقل و حرکت میں اضافے کے باعث لوگوں کی قوتِ خرید مستحکم رہی۔

انہوں نے کہا کہ تعطیلات کے دوران تجارت، ٹرانسپورٹ، ریستوران، ہوٹلوں اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق لین دین میں اضافہ بھی کھپت میں اضافے کا مظہر ہے۔

بی پی ایس سربراہ کے مطابق مجموعی مستقل سرمایہ کاری میں 5.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا جی ڈی پی میں حصہ 28.29 فیصد رہا۔

سرمایہ کاری نے پہلی سہ ماہی کی اقتصادی ترقی میں 1.79 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

امالیا ادیننگر ویدیاسانتی نے کہا کہ سرمایہ کاری میں اضافہ مشینری اور پیداواری گاڑیوں جیسے سرمائے کے سامان کی بڑھتی طلب اور کاروباری توسیع کی وجہ سے ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ سرمائے کے سامان کی درآمدات میں 14.27 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے عملی منصوبوں میں 7.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی ترقیاتی اخراجات میں بھی 36.7 فیصد اضافہ ہوا۔

بی پی ایس کے مطابق حکومتی کھپت میں 21.81 فیصد اضافہ ہوا، جس نے قومی اقتصادی ترقی میں 1.26 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔

امالیا نے کہا کہ صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کے تحت متعارف کرائی گئی مالیاتی مراعاتی پالیسیوں کے باعث پہلی سہ ماہی میں حکومتی اخراجات معمول سے کہیں زیادہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اخراجات اور مراعات کے تیز رفتار نفاذ سے اقتصادی سرگرمیوں پر مثبت اثرات گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔

اعدادوشمار کے مطابق ٹرانسپورٹ اور گودام سازی کے شعبے میں سب سے زیادہ 8.04 فیصد ترقی ہوئی، جبکہ تجارت میں 6.26 فیصد، مینوفیکچرنگ میں 5.04 فیصد اور زراعت میں 4.97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امالیا نے کہا کہ ان شعبوں میں ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور عالمی اقتصادی سست روی کے باوجود انڈونیشیا کی داخلی اقتصادی سرگرمیاں مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
معاہدوں Previous post پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
تاجکستان Next post تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کا بلوچستان ٹرین حملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے اظہارِ تعزیت