
مراکش اور نیدرلینڈز کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ منظور، منظم جرائم کے خلاف تعاون مزید مضبوط ہوگا
مراکش، یورپ ٹوڈے: نیدرلینڈز کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں، ایوانِ نمائندگان، نے مراکش کے ساتھ ملزمان کی حوالگی (ایکسٹریڈیشن) کے معاہدے کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان عدالتی تعاون اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ دسمبر 2023 میں رباط میں دستخط کیا گیا تھا اور اسے ڈچ پارلیمنٹ میں وسیع حمایت حاصل ہوئی۔ صرف پارٹی فار دی اینیملز اور ڈینک نے اس کی مخالفت کی۔ مراکش کی پارلیمنٹ پہلے ہی اس معاہدے کی توثیق کر چکی ہے، جبکہ نیدرلینڈز کی سینیٹ میں آئندہ مہینوں کے دوران اس پر غور متوقع ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایسے مشتبہ افراد اور سزا یافتہ مجرموں کی حوالگی کی درخواست کر سکیں گے جن پر ایسے جرائم کے الزامات ہوں جو دونوں ممالک کے قوانین کے مطابق کم از کم ایک سال قید کی سزا کے مستوجب ہوں۔ ان جرائم میں قتل، غیر ارادی قتل، تشدد پر مبنی جرائم اور منی لانڈرنگ شامل ہیں۔
نیدرلینڈز کے وزیرِ انصاف ڈیوڈ فان ویل نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایسے مجرموں کے لیے بیرونِ ملک پناہ لے کر قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مجرمانہ نیٹ ورکس کے لیے موجود ’’محفوظ پناہ گاہ‘‘ کے ایک حصے کا خاتمہ کرتا ہے اور بین الاقوامی قانونی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی نیدرلینڈز کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
معاہدے کی ایک اہم شق مراکشی شہریوں اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد سے متعلق ہے، جنہیں مراکش عمومی طور پر دوسرے ممالک کے حوالے نہیں کرتا۔ تاہم، وزیرِ انصاف کے مطابق اگر حوالگی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے تو مراکشی حکام متعلقہ افراد کے خلاف اپنے ملک میں قانونی کارروائی اور مقدمہ چلانے کے پابند ہوں گے۔ ان کے بقول یہ شق جرائم کے خلاف مؤثر بازدار اثر رکھے گی۔
ڈچ پارلیمنٹ کے اراکین نے اس معاہدے کو منظم جرائم سے وابستہ نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا۔ وی وی ڈی کے رکن پارلیمنٹ یولیس ایلیان نے کہا کہ یہ معاہدہ عمر قید کی سزا پانے والے منشیات فروش رضوان تاگھی سے منسلک مشتبہ افراد کے تعاقب میں خاص طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈچ پراسیکیوٹر فیری فان ویگل نے بتایا کہ زیرِ تفتیش متعدد مجرمانہ تنظیموں کے مشتبہ افراد مراکش میں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی اہمیت صرف حوالگی تک محدود نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی عدالتی تعاون کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔
یہ معاہدہ رباط اور دی ہیگ کے درمیان منظم جرائم کے خلاف کئی برسوں سے جاری تعاون کا تسلسل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون میں نمایاں اضافہ 2017 میں مراکش کے شہر مراکش میں ایک جج کے بیٹے کے قتل کے بعد ہوا، جسے غلط شناخت کی بنیاد پر کیا گیا حملہ قرار دیا گیا تھا اور جس کے روابط رضوان تاگھی سے وابستہ مجرمانہ نیٹ ورکس سے جوڑے گئے تھے۔ 2021 سے مراکش اور نیدرلینڈز نے پولیس رابطہ کاری اور رباط میں نیدرلینڈز کے سفارت خانے میں مستقل ڈچ پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت تعاون کو مزید وسعت دی ہے۔
دریں اثنا، ڈچ پارلیمنٹ نے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے جس کے تحت ایسے مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں مسترد کی جائیں گی جہاں سیاسی بنیادوں پر مقدمہ چلائے جانے کے شواہد موجود ہوں۔ وزیرِ انصاف ڈیوڈ فان ویل نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کے تقاضے معاہدے کے تحت موصول ہونے والی تمام حوالگی درخواستوں کے جائزے میں بنیادی اہمیت رکھتے رہیں گے۔
مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ مراکش اور نیدرلینڈز کے درمیان قانونی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ سرحد پار جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور ملزمان کے احتساب کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔