پاکستان

پاکستان کا عالمی سفارتی کردار مزید مستحکم، اہم بین الاقوامی تنظیموں میں قیادت سنبھالنے کی تیاری، اسحاق ڈار

Read Time:3 Minute, 39 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ علاقائی اور بین الاقوامی فورمز میں اہم ذمہ داریاں سنبھالنے جا رہا ہے، جن میں مختلف علاقائی تنظیموں کی سربراہی بھی شامل ہے، جو عالمی برادری کے پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی اہمیت کا اندازہ اس کی تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی)، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) سمیت مختلف علاقائی و عالمی پلیٹ فارمز میں فعال شرکت سے لگایا جا سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی فورمز میں بڑھتی ہوئی شمولیت اور عالمی تقریبات کی میزبانی یا مشترکہ صدارت سے بھی واضح ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے تحت خواتین سے متعلق کانفرنسوں اور ایس سی او کے اجلاسوں سمیت کئی اہم بین الاقوامی سرگرمیوں میں پاکستان کلیدی کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں میں پاکستان کی قیادت مسلم دنیا اور عالمی امور میں اس کی فعال اور مؤثر شمولیت کی عکاس ہے۔ علاقائی تزویراتی پیش رفت اور دوست ممالک کے ساتھ دفاعی و سکیورٹی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تعاون، استحکام اور علاقائی روابط کے فروغ پر مبنی ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقتصادی انضمام کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے، جن میں سرحد پار تجارت اور ہمسایہ ممالک، بالخصوص ایران، کے ساتھ تجارتی و منڈی روابط کو فروغ دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے پرامن مذاکرات اور سفارتی ذرائع کی حمایت کی ہے اور اقتصادی تعلقات کے فروغ، تجارتی حجم میں اضافے اور علاقائی استحکام کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ سفارتی کامیابیاں حکومت، دفترِ خارجہ اور ملکی قیادت، بشمول وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت عالمی سطح پر پاکستان کے تعمیری کردار پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔

ایوان کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے وسیع سفارتی کوششیں کیں اور مسلسل رابطوں اور مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے ذریعے مصالحتی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اسلام آباد اور ریاض میں متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کا بنیادی مقصد ایسے وقت میں کشیدگی میں کمی لانا تھا جب امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ اپنی شدت پر تھا۔ پاکستان نے ایک غیر جانبدار سہولت کار کے طور پر فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کی رازداری کو یقینی بنایا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ثالثی کے عمل کی ساکھ اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے حساس دستاویزات دونوں فریقوں کی رضامندی کے بغیر نہ تو عوامی سطح پر جاری کی گئیں اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر کی گئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طویل مذاکراتی مراحل کے بعد اہم پیش رفت ممکن ہوئی، جس میں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بعد ازاں اپریل، مئی اور جون میں تکنیکی اور پالیسی سطح کے متعدد مذاکراتی دور منعقد ہوئے۔

اسحاق ڈار کے مطابق عمل کے دوسرے مرحلے میں پابندیوں، منجمد اثاثوں اور علاقائی تنازعات سے متعلق حساس امور پر تکنیکی مذاکرات کیے گئے۔ انہوں نے لبنان اور ایران سے متعلق وسیع تر علاقائی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد بھی پاکستان کا کردار جاری رہا اور امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان سمیت مختلف فریقین کے درمیان مشاورتی عمل کے نتیجے میں 22 جون کو ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ تمام عمل مؤثر سفارتی ہم آہنگی کا مظہر ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور عزم کی توثیق کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مختلف عالمی فورمز سے مسلسل دعوتیں موصول ہو رہی ہیں اور اسے ایک فعال اور مؤثر سفارتی قوت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post فرانس کا آذربائیجان-آرمینیا امن عمل پر مؤقف جانبدارانہ، علاقائی حقائق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے: آذربائیجان
قطر Next post وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر کا امن عمل پر اطمینان، مذاکراتی پیش رفت برقرار رکھنے پر زور