انڈونیشیا

انڈونیشیا نے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رو-رو لاجسٹکس شپنگ میں کاروباری رکاوٹیں ختم کرنے کا اعلان

Read Time:2 Minute, 19 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈوڈی پورواگاندھی نے کہا ہے کہ حکومت رول آن/رول آف (RoRo) لاجسٹکس شپنگ کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروباری رکاوٹوں اور اضافی آپریشنل اخراجات کو ختم کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کیا جا سکے۔

جمعہ کی شام جکارتہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت ایسے تمام نجی اداروں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے جو رو-رو لاجسٹکس خدمات میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، بشرطیکہ ان کے منصوبے تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل ہوں۔

انہوں نے کہا، "ہم رکاوٹیں دور کر رہے ہیں تاکہ کاروباری ادارے اضافی اخراجات کے بغیر زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔”

ڈوڈی پورواگاندھی کے مطابق حکومت اس شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت پر کوئی پابندی عائد نہیں کرے گی، کیونکہ ملک کے لاجسٹکس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر نجی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ رو-رو جہاز چلانے والی کمپنیوں کے لیے کسی قسم کی سبسڈی فراہم نہیں کی جائے گی، کیونکہ لاجسٹکس خدمات ایک تجارتی سرگرمی ہیں اور ہر کمپنی کو اپنے معاشی مفادات اور کاروباری حکمتِ عملی کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت کا اصل مقصد اضافی اخراجات، پیچیدہ لائسنسنگ نظام اور دیگر انتظامی رکاوٹوں کو ختم کر کے سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان رکاوٹوں کے خاتمے سے کمپنیاں اپنی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے سکیں گی، جس سے اس شعبے میں سرمایہ کاری مزید پرکشش بنے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کے باوجود بعض کمپنیاں رو-رو آپریشنز کو تجارتی لحاظ سے غیر موزوں سمجھتی ہیں تو اس کی بنیادی وجوہات، خصوصاً مارکیٹ میں طلب کی صورتحال، کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

وزیر نے بتایا کہ حکومت رو-رو لاجسٹکس خدمات کے استعمال میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات اور مراعاتی پروگرام بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ مارکیٹ میں طلب کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری فیری آپریٹر اے ایس ڈی پی انڈونیشیا فیری نے مختلف روٹس پر رو-رو کنٹینر شپنگ سروسز شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی ہے، تاہم حکومت نجی کمپنیوں کو ایسا کرنے کی پابند نہیں بنا سکتی کیونکہ سرمایہ کاری کے فیصلے ہر کمپنی کی مالی استعداد اور کاروباری تخمینوں پر منحصر ہوتے ہیں۔

ڈوڈی پورواگاندھی نے اظہارِ امید کیا کہ رو-رو لاجسٹکس خدمات کے فروغ سے مال برداری کا ایک بڑا حصہ سڑکوں کے بجائے سمندری راستوں پر منتقل ہوگا، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، شپنگ لاگت میں مسابقت پیدا ہوگی اور انڈونیشیا کے قومی لاجسٹکس نظام کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
بلوچستان Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
تاجکستان Next post تاجکستان کی امن کے فروغ کی عالمی کاوش، اقوام متحدہ کی قرارداد پر دوشنبے میں کانفرنس کا انعقاد