
انڈونیشیا میں قومی انٹیگریٹڈ اسکولز پروگرام رواں سال شروع کرنے کی تیاریاں مکمل
یوگیاکارتا، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے رواں سال قومی انٹیگریٹڈ اسکولز پروگرام شروع کرنے کی تیاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور اسے عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم عبدالمعطیٰ نے اتوار کے روز یوگیاکارتا کے دورے کے دوران کہا کہ یہ پروگرام صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے متعارف کرائے گئے اہم تعلیمی اقدامات میں شامل ہے، جس میں گارودا ٹاپ اسکولز کی ترقی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں قومی انٹیگریٹڈ اسکولز پروگرام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جس کا آغاز ان شاء اللہ رواں سال کیا جائے گا۔‘‘
وزیر نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد ملک کے ہر ضلع میں اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے قائم کرنا ہے، جن کا آغاز جونیئر ہائی اسکول کی سطح سے کیا جائے گا۔
عبدالمعطیٰ کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے ابتدائی طور پر ہر ذیلی ضلع میں ایسے اسکول قائم کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں ہر ضلع میں جونیئر ہائی اسکول کی سطح پر ان اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی انٹیگریٹڈ اسکولز پروگرام بنیادی طور پر غیرمعمولی تعلیمی صلاحیت رکھنے والے طلبہ کے لیے مختص ہوگا اور ان اداروں میں بورڈنگ اسکول کا نظام متعارف نہیں کرایا جائے گا۔
وزیر کے مطابق متعدد علاقوں نے اسکولوں کی تعمیر کے لیے اپنی تیاری سے آگاہ کر دیا ہے، جبکہ اس پروگرام کے لیے نصاب بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کا طریقہ کار بھی مرتب کر رہی ہے، جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ نئے تعلیمی سال سے قبل قومی انٹیگریٹڈ اسکولز کے چند اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا جائے۔
عبدالمعطیٰ نے ابتدائی مرحلے میں شامل علاقوں کے نام ظاہر نہیں کیے، تاہم بتایا کہ مستقل عمارتوں کی تعمیر مکمل ہونے تک وزارت کے موجودہ تعلیمی مراکز کو عارضی طور پر استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے مختلف تعلیمی منصوبوں کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت، معیاری اور مسابقتی انسانی وسائل تیار کرنا ہے جو بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
وزیر نے زور دیا کہ تیزی سے مسابقتی ہوتی دنیا میں قومی ترقی کے لیے تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے تاکہ ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور عالمی سطح پر مسابقت کی استعداد میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔