پولیس

اسلام آباد پولیس نے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قتل کا مرکزی ملزم 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا، آئی جی

Read Time:2 Minute, 51 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) پولیس نے پاک فضائیہ کے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مرکزی ملزم کو واقعے کے صرف نو گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتاری 11 تفتیشی ٹیموں، ایک ہزار 100 سے زائد پولیس اہلکاروں، سیف سٹی کیمروں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے کیے گئے بڑے پیمانے پر آپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

اتوار کی شب پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر واقعے کے فوراً بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ پورے آپریشن کے دوران پولیس حکام سے مسلسل رابطے میں رہے اور تمام ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ واقعہ صبح تقریباً 11 بجے پیش آیا، جب ملزم سعد عباسی مبینہ طور پر اپنی دفتری ساتھی نمرہ کو اس کی منزل میلوڈی لے جانے کے بجائے ایک پارک کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ خاتون نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ کسی دوسری جگہ نہیں جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے خاتون کو پریشان حالت میں دیکھ کر گاڑی روکی اور ملزم کو خاتون سے دور ہونے کا کہا۔ تاہم ملزم نے مبینہ طور پر پستول نکال کر گروپ کیپٹن عاصم طارق پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔

آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنی قمیض تبدیل کی، موبائل فون اور سم بند کر دی اور شہر سے فرار ہونے کی غرض سے ایک نجی بس سروس سے ٹکٹ بھی خریدا، تاہم پولیس نے مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیے، سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج، ڈیجیٹل فرانزک شواہد اور انسانی انٹیلی جنس کی مدد سے اس کا سراغ لگا کر گرفتار کر لیا۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیشی ٹیموں نے 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا، 137 سے زائد کال ڈیٹیل ریکارڈز (سی ڈی آرز) کا تجزیہ کیا اور مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ آپریشن کے دوران الگ ٹیمیں میانوالی، لاہور اور ایبٹ آباد بھی روانہ کی گئیں کیونکہ ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے بتایا جاتا ہے۔

سید علی ناصر رضوی نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر اس سے قبل بھی ایک خاتون کے اغوا کے مقدمے میں ملوث رہا تھا، جس میں وہ خاتون کو میانوالی لے گیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ معاملہ فریقین کے درمیان طے پا گیا تھا۔

آئی جی اسلام آباد نے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بے گناہ خاتون کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کر کے غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا، جسے ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلام آباد پولیس تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے اس مقدمے کی سائنسی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر تحقیقات مکمل کرے گی تاکہ ملزم کو قانون کے مطابق عبرتناک سزا دلوائی جا سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
فضائیہ Previous post اسلام آباد میں خاتون کو مبینہ اغوا سے بچانے کی کوشش میں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید
ویتنام Next post ویتنام میں 1968ء کی جنگ کے شہداء کی باقیات کی تلاش کے آپریشن کی تیاریاں مکمل، نائب وزیراعظم کا جائزہ