
صدر پربووو سوبیانتو کی تھاکسن شناواترا اور ان کے اہلِ خانہ سے جکارتہ میں ملاقات
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پربووو سوبیانتو نے بدھ کی شام جکارتہ میں واقع اپنی نجی رہائش گاہ کرتانیگارا اسٹریٹ پر تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم تھاکسن شناواترا اور ان کے اہلِ خانہ، جن میں سابق تھائی وزیراعظم پیٹونگتارن شناواترا بھی شامل تھیں، کا پرتپاک استقبال کیا۔
انڈونیشین کابینہ سیکریٹریٹ نے اس ملاقات کی تصاویر اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملاقات “گرمجوش اور دوستانہ ماحول” میں ہوئی۔
کابینہ سیکریٹریٹ کے مطابق صدر پربووو اور تھاکسن شناواترا نے اس غیر رسمی نشست کے دوران اپنی دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹریٹجک صورتحال اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
تھاکسن شناواترا کے انڈونیشیا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ اس وقت انڈونیشیا کی دانانتارا انویسٹمنٹ مینجمنٹ ایجنسی (BPI Danantara) کے مشاورتی بورڈ کے رکن بھی ہیں۔
کابینہ سیکریٹریٹ نے کہا کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں عالمی رہنماؤں اور بااثر بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ انڈونیشیا کے روابط اور دوستی کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد وسیع تر تعاون کو تقویت دینا اور بدلتی عالمی صورتحال میں ملک کے کردار کو مستحکم کرنا ہے۔
صدر پربووو اس سے قبل 19 مئی 2025 کو بنکاک کے سرکاری دورے کے دوران بھی پیٹونگتارن شناواترا سے ملاقات کر چکے ہیں، جب وہ تھائی لینڈ کی وزیراعظم تھیں۔
بعد ازاں 29 اگست 2025 کو تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کے ساتھ سرحدی تنازع سے متعلق ٹیلیفونک گفتگو منظرِ عام پر آنے کے بعد پیٹونگتارن شناواترا کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے فیو تھائی پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ دی۔
ان سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں ستمبر 2025 میں بھوم جائیتھائی پارٹی کے رہنما انونتین چرن ویراکول پارلیمانی منظوری حاصل کر کے تھائی لینڈ کے وزیراعظم بنے، جبکہ ان کی جماعت نے فروری 2026 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے انہیں دوبارہ وزارتِ عظمیٰ دلائی۔
دوسری جانب تھاکسن شناواترا کو گزشتہ ماہ کے آغاز میں مکمل شاہی معافی مل گئی، جس کے نتیجے میں ان کی سزا ختم کر دی گئی اور ستمبر 2026 میں ختم ہونے والی نگرانی کی مدت بھی قبل از وقت ختم ہو گئی۔
جکارتہ میں ہونے والی حالیہ ملاقات نے انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کی سیاسی قیادت کے درمیان دیرینہ ذاتی تعلقات کو اجاگر کیا، جبکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ انڈونیشیا اپنی وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کے تحت خطے کی بااثر شخصیات کے ساتھ روابط برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔