بلوچستان

بلوچستان میں فوجی قافلے پر حملے میں 11 جوان شہید، سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 26 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر

Read Time:3 Minute, 37 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چار روز کے دوران پیش آنے والے تین بڑے دہشت گرد حملوں میں پاک فوج کے ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) سمیت 11 فوجی جوان اور 27 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ مختلف کارروائیوں میں متعدد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

اسلام آباد میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ بیلہ-ونڈر کے علاقے میں این-25 شاہراہ پر پاک فوج کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک جے سی او اور 10 جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گزشتہ چار روز کے دوران پیش آنے والے تین بڑے دہشت گرد حملوں میں سے ایک تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے خاران اور دالبندین میں بھی مؤثر کارروائیاں کیں، جن کے دوران بالترتیب 6 اور 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز بلا تعطل جاری ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب حنہ اُرک کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ریاست کی جانب سے فتنہ الخوارج قرار دیے گئے دہشت گردوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد نے مزاحمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، تاہم حملے میں چار شہری شہید اور چھ زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا واقعہ ضلع زیارت میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 کے قریب قائم پولیس چوکی پر متعدد اطراف سے کیے گئے حملے کی صورت میں پیش آیا۔ یہ چوکی کوئٹہ کو پانی فراہم کرنے والے اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شدید حملے کے باوجود چوکی کا بھرپور دفاع کیا اور جوابی کارروائی میں 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ ابتدائی جھڑپ میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک فوج کی کمک فوری طور پر روانہ کی گئی، جبکہ پولیس اہلکار اضافی نفری پہنچنے تک دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ 6 جولائی سے زیارت کے پہاڑی علاقوں میں جاری تعاقبی کارروائیوں کے دوران مزید دہشت گرد مارے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعد ازاں جاری آپریشنز کے دوران مزید 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جس کے بعد منگی ڈیم سے متعلق واقعات میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تعاقبی کارروائیوں میں مزید 11 دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد منگی ڈیم آپریشن میں مارے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 26 ہو گئی، تاہم ان کے بقول دہشت گردوں کے اصل جانی نقصانات اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ شہری آبادی کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے آپریشن کے دوران فضائی وسائل استعمال نہیں کیے گئے، جبکہ پولیس اہلکار مسلسل دہشت گردوں سے برسرِ پیکار رہے۔

سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت سمیت بعض دشمن عناصر پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں ملوث دہشت گرد افغان شہری تھے اور افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو دہشت گرد تنظیمیں اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

انہوں نے کراچی میں رینجرز کیمپ پر حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چار حملہ آوروں میں سے تین افغان شہری تھے، جبکہ اس حملے کی منصوبہ بندی، لاجسٹک معاونت اور آپریشنل سپورٹ افغانستان سے فراہم کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور حکومت کی پالیسی کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے، دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں اور ان کی معاونت، پناہ یا لاجسٹک سہولت فراہم کرنے والے تمام عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی اور پاکستان کے امن، استحکام اور قومی سلامتی کو درپیش ہر خطرے کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور اردن سے اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور