
آذربائیجان کی اسپیکر صاحبہ غفاروا کا مسلح تنازعات کے دوران ماحولیات کے تحفظ کے لیے پارلیمانی کردار مضبوط بنانے پر زور
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کی قومی اسمبلی (ملی مجلس) کی اسپیکر صاحبہ غفاروا نے مسلح تنازعات کے دوران قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے پارلیمانوں کے کردار کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں ماحولیات کی تباہی نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کے طویل المدتی انسانی، قانونی اور سلامتی سے متعلق اثرات آئندہ نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
انہوں نے 9 جولائی کو بین الپارلیمانی یونین (IPU) کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار "مسلح تنازعات میں قدرتی ماحول کا تحفظ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث نہیں بنتیں بلکہ ماحولیاتی نظام، حیاتیاتی تنوع، آبی وسائل اور زرعی اراضی کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے پائیدار ترقی کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
صاحبہ غفاروا نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی انسانی قانون مسلح تنازعات کے دوران ماحولیات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی مؤثر عملداری کا انحصار قومی سطح پر اس کے نفاذ پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کو قومی قانون سازی کا حصہ بنائیں، ان پر عمل درآمد کی نگرانی کو مضبوط کریں، ماحولیاتی نقصان پر قانونی جوابدہی کو یقینی بنائیں اور تنازعات کے بعد ماحولیات کی بحالی کے اقدامات کی حمایت کریں۔
آذربائیجان کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ آذربائیجانی علاقوں پر 30 سالہ قبضے کے دوران جنگلات کو تباہ کیا گیا، زرعی زمینیں متاثر ہوئیں، آبی وسائل آلودہ ہوئے، حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچا اور قدرتی وسائل کا غیر قانونی استحصال کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ مقبوضہ علاقوں میں بچھائی گئی ایک ملین سے زائد بارودی سرنگیں آج بھی انسانی جانوں اور ماحولیات دونوں کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں، جس کے باعث ماحولیاتی بحالی کی کوششیں متاثر اور بے گھر افراد کی محفوظ واپسی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
صاحبہ غفاروا نے بتایا کہ آذربائیجان آزاد کرائے گئے علاقوں میں انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگوں کی صفائی، ماحولیاتی نظام کی بحالی، شجرکاری مہمات اور گرین انرجی منصوبوں پر وسیع پیمانے پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ملی مجلس نے ماحولیات کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اہم قانون سازی کی ہے، جن میں 2024 میں آذربائیجان کے فوجداری قانون میں "ماحولیاتی نسل کشی (Ecocide)” کو امن اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دینا، کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور استعمال پر پابندی سے متعلق قانون، اور بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق قانون شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاپ 29 (COP29) کے موقع پر بین الپارلیمانی یونین اور ملی مجلس کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس کی حتمی دستاویز میں بھی دنیا بھر کی پارلیمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مسلح تنازعات کے ماحولیاتی اثرات کی روک تھام، بارودی سرنگوں سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور ماحولیاتی نسل کشی کے خلاف قانون سازی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
صاحبہ غفاروا نے کہا کہ یہ دستاویز کاپ 29 کے میزبان ملک کی حیثیت سے آذربائیجان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون پر مؤثر عمل درآمد، مسلح تنازعات کے دوران ماحولیات کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔