
مراکش کی حکومت نے نئی بایومیٹرک پاسپورٹ پالیسی، الیکٹرک اسکوٹرز کے ضوابط اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کی منظوری دے دی
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کی حکومتی کونسل نے وزیرِاعظم عزیز اخنوش کی زیرِصدارت منعقدہ اجلاس میں نئی نسل کے بایومیٹرک پاسپورٹس کے اجرا، الیکٹرک اسکوٹرز سمیت ذاتی نقل و حمل کی گاڑیوں کے لیے نئے قواعد، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں انتظامی اصلاحات اور متعدد اعلیٰ سرکاری تقرریوں کی منظوری دے دی۔
حکومتی ترجمان مصطفیٰ بیتاس کے مطابق اجلاس میں وزیرِداخلہ عبدالوافی لفتيت کی جانب سے پیش کردہ مسودۂ فرمان نمبر 2.26.551 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت مراکش میں نئی نسل کے بایومیٹرک پاسپورٹس متعارف کرائے جائیں گے۔ نئے پاسپورٹس میں جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل ہوں گی اور ان کے ڈیزائن میں مراکش کی متنوع ثقافتی شناخت کی عکاسی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد مراکشی پاسپورٹس کو جعلسازی اور نقلی دستاویزات سے مزید محفوظ بنانا ہے، جبکہ نئے پاسپورٹس کے اجرا اور طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کے مشترکہ فیصلے کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔ موجودہ پاسپورٹس نئی بایومیٹرک دستاویزات کے مرحلہ وار اجرا تک مؤثر رہیں گے۔
الیکٹرک اسکوٹرز کے لیے نئے قوانین
حکومتی کونسل نے مسودۂ فرمان نمبر 2.25.145 بھی منظور کیا، جس کے تحت مراکش کے ہائی وے کوڈ میں ترمیم کرتے ہوئے الیکٹرک اسکوٹرز اور دیگر ذاتی نقل و حمل کی جدید گاڑیوں کے استعمال کے لیے قواعد و ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔
نئے ضوابط کے مطابق ان گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 25 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ سواروں کے لیے منظور شدہ حفاظتی ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا۔ دورانِ سفر ہیڈ فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ سوار ٹریفک انتباہات سن سکیں۔ اسی طرح آٹھ سال سے کم عمر بچوں کو عوامی سڑکوں پر ان گاڑیوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ کم عمر بچوں کو ساتھ بٹھانے کی صورت میں اضافی حفاظتی شرائط بھی لاگو ہوں گی۔
وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد خطرناک ڈرائیونگ رویوں کی روک تھام، سڑکوں پر تحفظ کو بہتر بنانا اور جدید ذاتی نقل و حمل کے ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کے لیے واضح قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات
اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور اختراع عزالدین المیداوی کی جانب سے پیش کیے گئے دو مسودۂ فرامین بھی منظور کیے گئے۔
پہلے فرمان کے تحت سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے عہدوں کے لیے درخواستوں کے عمل کو یکساں اور شفاف بنایا جائے گا، جبکہ دوسرے فرمان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان کے انتخاب کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد شفافیت، میرٹ، مساوی مواقع اور مؤثر انتظامی نظام کو فروغ دینا ہے، جو مراکش کے اعلیٰ تعلیم کے فریم ورک قانون نمبر 59.24 سے ہم آہنگ ہیں۔
اعلیٰ سرکاری تقرریاں
حکومتی کونسل نے متعدد اہم سرکاری تقرریوں کی بھی منظوری دی۔ وزارتِ خارجہ، افریقی تعاون اور بیرونِ ملک مقیم مراکشیوں کے امور میں عمر ربیع کو امریکی امور کا ڈائریکٹر، جبکہ ندا بقالی حسنی کو پبلک ڈپلومیسی اور غیر ریاستی شراکت داروں کی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
وزارتِ نوجوانان، ثقافت اور ابلاغ میں مصطفیٰ امذجار کو مواصلات اور میڈیا تعلقات کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، جبکہ وزارتِ ڈیجیٹل ٹرانزیشن و انتظامی اصلاحات میں قطیفہ الکرکری کو سیکریٹری جنرل تعینات کیا گیا۔
اسی طرح وزارتِ پارلیمانی تعلقات کے ماتحت حلیمہ غیات کو سول سوسائٹی سے تعلقات کی ڈائریکٹر مقرر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔