
ویتنام میں سرحدی علاقوں کی 248 رہائشی اسکولوں کی تعمیر سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ عوامی روابط اور تعاون کو فروغ ملے گا
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان فام تھو ہانگ نے کہا ہے کہ ملک کے زمینی سرحدی علاقوں کی 248 کمیونز میں بین الجماعتی رہائشی اسکولوں کی تعمیر سے نہ صرف سرحدی علاقوں کی تعلیمی سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ ویتنام اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان عوامی روابط، باہمی اعتماد اور تعاون کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کی جانب سے ملک بھر کی 248 سرحدی کمیونز میں پرائمری اور سیکنڈری سطح کے بورڈنگ اسکول قائم کرنے کا فیصلہ ایک اہم اسٹریٹجک اقدام ہے، جو انسانی ہمدردی کی اقدار کا مظہر اور دور دراز، سرحدی اور پسماندہ علاقوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پارٹی اور ریاست کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ویتنام کی سماجی و اقتصادی ترقی اور نسلی امور سے متعلق پالیسیوں کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں کے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، ان کی مادی اور روحانی ضروریات پوری کرنا، اور قومی دفاع و سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ترجمان کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں 100 بورڈنگ اسکولوں کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے، اور توقع ہے کہ یہ تعلیمی ادارے 2026-27 کے تعلیمی سال کے آغاز تک مکمل کر لیے جائیں گے۔
انہوں نے پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر ٹو لام کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسکول سرحدی تعلیم کے لیے "نرم سرحدی نشانات” (Soft Markers) کا کردار ادا کریں گے، جو معیاری انسانی وسائل کی تیاری اور سرحدی علاقوں کی پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
فام تھو ہانگ نے مزید کہا کہ ان تعلیمی اداروں کے قیام سے سرحدی علاقوں کے درمیان روابط اور تعاون کو فروغ ملے گا، جبکہ ویتنام اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پرامن ذرائع سے سرحدی نظم و نسق اور تحفظ کے لیے مضبوط سماجی بنیاد فراہم کرے گا اور ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور جائز مفادات کے احترام پر مبنی دیرپا امن، استحکام اور علاقائی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔