مراکش

مراکش اور امریکہ کا انسدادِ دہشت گردی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

Read Time:3 Minute, 50 Second

مراکش، یورپ ٹوڈے: مراکش اور امریکہ نے دوطرفہ انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی دیرینہ سیکیورٹی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جو اب اپنے تقریباً ڈھائی سو سال مکمل ہونے کے قریب ہے۔

یہ اتفاقِ رائے 8 جولائی کو واشنگٹن میں منعقدہ اعلیٰ سطحی انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جس کی مشترکہ صدارت امریکی محکمہ خارجہ کی قائم مقام پرنسپل ڈپٹی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشت گردی مونیکا جیکبسن اور مراکش کی وزارتِ خارجہ میں عالمی امور کے ڈائریکٹر اسماعیل شکوری نے کی۔

مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے القاعدہ برائے اسلامی مغرب (AQIM)، داعش (ISIS) اور مراکش و امریکہ کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دی گئی دیگر تنظیموں کے خلاف جاری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے دہشت گرد تنظیموں کی نامزدگی میں باہمی ہم آہنگی، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور ساحل (Sahel) کے خطے میں شدت پسندانہ تشدد سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

رباط میں امریکی سفارت خانے کے مطابق اس مکالمے نے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مضبوط اور دیرپا شراکت داری کو اجاگر کیا۔ دونوں حکومتوں نے بدلتے ہوئے دہشت گرد خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے اور اپنے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

دفاعی تعاون کے فروغ کے سلسلے میں 13 جولائی کو جرمنی کے شہر اشٹٹ گارٹ میں امریکی افریقہ کمان (AFRICOM) کے ہیڈکوارٹرز میں مراکش کی شاہی مسلح افواج (FAR) اور AFRICOM کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت مراکش کے شہر طنطان میں 2030 تک افریقہ ملٹی ڈومین ٹریننگ اینڈ ایکسپیریمنٹیشن سینٹر (AMTEC) قائم کیا جائے گا۔

معاہدے پر مراکش کے انسپکٹر جنرل جنرل محمد بریڈ، جنہوں نے شاہ محمد ششم کی ہدایت پر مراکشی وفد کی قیادت کی، اور AFRICOM کے کمانڈر جنرل ڈیگون اینڈرسن نے دستخط کیے۔

مجوزہ AMTEC مرکز تین بنیادی حصوں پر مشتمل ہوگا، جن میں برقی مقناطیسی ماحول اور متنازعہ آپریشنل حالات میں تربیت فراہم کرنے والا ملٹی ڈومین ٹریننگ ایریا، مراکش اور افریقی شراکت دار ممالک کے آپریٹرز و انسٹرکٹرز کی تربیت کے لیے ڈرون اکیڈمی، اور کم لاگت جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے انوویشن اینڈ ایکسپیریمنٹیشن سینٹر شامل ہوں گے۔

ڈرون اکیڈمی مغربی افریقہ میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے چھوٹے بغیر پائلٹ فضائی نظام، انٹیلی جنس، نگرانی، فضائی جاسوسی، ہدفی کارروائیوں اور فضائی حدود کی ہم آہنگی سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کرے گی۔

جنرل محمد بریڈ نے کہا کہ مراکش کا موجودہ عسکری انفراسٹرکچر اور تربیت یافتہ افرادی قوت اس منصوبے کو جلد عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہوگی، جبکہ اس سے مراکش اور امریکہ کے درمیان مشترکہ جدت، دفاعی صنعت اور عسکری تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

AFRICOM کے کمانڈر جنرل ڈیگون اینڈرسن نے AMTEC کو امریکی اور افریقی دفاعی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مشترکہ تحقیق اور علاقائی سیکیورٹی چیلنجز کے قابلِ عمل حل تیار کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افریقن لائن 2027 فوجی مشق اس مرکز کے عملی تصور کا پہلا مظاہرہ ہوگی۔

واشنگٹن میں انسدادِ دہشت گردی مذاکرات اور AMTEC معاہدہ دونوں 2026 تا 2036 مراکش۔امریکہ دفاعی تعاون روڈ میپ کا حصہ ہیں، جس پر 15 اپریل کو واشنگٹن میں دستخط کیے گئے تھے۔ یہ روڈ میپ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اس روڈ میپ کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) میں بھی تقویت دی گئی ہے، جس میں مراکش کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، انسدادِ دہشت گردی شراکت داری کے فروغ، امریکی دفاعی نظام کے ذریعے مراکشی افواج کی جدید کاری، آل ڈومین تربیتی کمپلیکس اور ڈرون سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام، افریقن لائن سمیت مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار میں توسیع، سائبر سیکیورٹی، ڈرون اور انسدادِ ڈرون کارروائیوں، ہائبرڈ جنگ، مصنوعی ذہانت اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مراکش کو 2004 سے امریکہ کا میجر نان نیٹو اتحادی (Major Non-NATO Ally) کا درجہ حاصل ہے، جبکہ امریکہ مراکش کو دفاعی سازوسامان فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور مراکش کی مجموعی دفاعی درآمدات کا تقریباً 60 فیصد امریکی دفاعی مصنوعات پر مشتمل ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ویتنام Previous post ویتنام نے امریکی سرمایہ کاروں کو مزید سرمایہ کاری کی دعوت دے دی
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان معدنیات و دھاتوں کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ