
غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت: مراکش کا معاہدہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش نے غزہ میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) میں اپنی شمولیت کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے ذریعے مملکت نے علاقائی امن، سلامتی اور بین الاقوامی استحکام کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے۔
بدھ کے روز غزہ پیس کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکولائے ملادینوف کے رباط کے دورے کے موقع پر دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت مراکش کی کثیر القومی امن مشن میں شرکت کے قانونی، تکنیکی اور عملیاتی پہلوؤں کا تعین کیا گیا ہے۔
شاہ محمد ششم کی ہدایات کے مطابق، مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ اور قومی دفاعی انتظامیہ کے وزیرِ مملکت عبد اللطیف لودی نے قومی دفاعی انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر میں نکولائے ملادینوف کا استقبال کیا۔
معاہدے کے تحت مراکش، رائل آرمڈ فورسز کے سینئر افسران کو آئی ایس ایف کے مشترکہ کمانڈ میں تعینات کرے گا، جبکہ رائل جینڈرمی اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیکیورٹی (DGSN) کے اہلکار بھی مشن کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ غزہ میں انسانی امداد اور استحکام کی کوششوں کی حمایت کے لیے ایک فوجی فیلڈ اسپتال بھی قائم کیا جائے گا۔
ملاقات میں رائل آرمڈ فورسز کے انسپکٹر جنرل اور جنوبی زون کے کمانڈر، رائل جینڈرمی کے کمانڈر، غزہ پیس کونسل کے اعلیٰ نمائندوں اور آئی ایس ایف کی قیادت نے بھی شرکت کی۔
مراکش کی قومی دفاعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ دورہ غزہ پیس کونسل کے بانی رکن کی حیثیت سے مراکش کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو شاہ محمد ششم کی اُن ہدایات کے مطابق ہے جو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ پیس کونسل کے افتتاحی اجلاس کے دوران جاری کی گئی تھیں۔
مذاکرات کے دوران مراکشی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ایس ایف میں شرکت، امن، تعاون اور بین الاقوامی یکجہتی کے اصولوں سے مراکش کی دیرینہ وابستگی کا مظہر ہے۔ وفد نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں مراکش کے وسیع تجربے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
وفد نے شاہ محمد ششم کی ان کاوشوں پر بھی روشنی ڈالی جن کا مقصد علاقائی انضمام کو فروغ دینا، سلامتی کو مضبوط بنانا اور پائیدار سماجی ترقی کو آگے بڑھانا ہے۔
غزہ پیس کونسل اور بین الاقوامی استحکام فورس کے اعلیٰ حکام نے مراکش کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مملکت کی مجوزہ فوجی، سیکیورٹی اور انسانی امدادی خدمات کو غزہ میں استحکام اور تعمیرِ نو کی کوششوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔