آذربائیجان

آذربائیجان اور جرمنی کا اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

Read Time:2 Minute, 11 Second

برلن، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے صدر فرینک والٹر اشٹائن مائر نے منگل کو برلن میں وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے توانائی، تجارت، علاقائی روابط اور بین الاقوامی امور میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

جرمن صدر فرینک والٹر اشٹائن مائر نے صدر الہام علییف کا خیرمقدم کرتے ہوئے آذربائیجان کے اپنے سابقہ دورے کو خوشگوار یاد قرار دیا اور کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود آذربائیجان اور جرمنی استحکام کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن عمل میں ہونے والی پیش رفت پر صدر الہام علییف کو مبارکباد دی اور یورپ کی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں آذربائیجان کے نمایاں کردار کو سراہا۔

صدر الہام علییف نے بھی جرمن صدر کے آذربائیجان کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان یورپ کے لیے ایک قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر یورپی ممالک کے علاوہ آذربائیجان نے اب جرمنی اور آسٹریا کو بھی قدرتی گیس کی برآمدات شروع کر دی ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے آذربائیجان اور جرمنی کے دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صدر الہام علییف کا سرکاری دورۂ جرمنی دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے میں نئی پیش رفت کا باعث بنے گا۔

صدر الہام علییف اور صدر اشٹائن مائر نے دونوں ممالک کے تعلقات کی اسٹریٹجک نوعیت پر زور دیتے ہوئے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ جمہوریہ آذربائیجان اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے درمیان دوطرفہ شراکت داری کے اسٹریٹجک ایجنڈے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جلد صدر الہام علییف اور جرمن چانسلر فریڈرش میرز کے دستخط سے طے پائے گا۔

ملاقات میں آذربائیجان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین کے باکو کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے آذربائیجان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں مسلسل وسعت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

مذاکرات کے دوران مڈل کوریڈور کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں براعظموں کو ملانے والے اس اہم تجارتی و ٹرانسپورٹ راستے کی ترقی میں آذربائیجان کے کلیدی کردار کو سراہا گیا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی دونوں رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
تاجکستان Previous post تاجکستان اور منگولیا کے درمیان 12 اہم تعاون معاہدوں پر دستخط، دوطرفہ شراکت داری کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کا خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ، ایران سے تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور