
انڈونیشیا ایشیا کا نمایاں ہائیڈروجن مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، وزارت توانائی
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارت توانائی و معدنی وسائل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ کم کاربن توانائی کی پیداوار میں اضافے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور خطے میں صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث انڈونیشیا ایشیا میں ہائیڈروجن کی پیداوار، تجارت اور ترقی کا ایک اہم مرکز بننے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
جکارتہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزارت کے انسانی وسائل ترقیاتی ادارے (BPSDM) کے سربراہ پراہورو نورتجاہیو نے کہا کہ عالمی توانائی کی منتقلی ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں توجہ صرف قابل تجدید بجلی کی پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہی بلکہ بھاری صنعت، بحری نقل و حمل، لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ جیسے ایسے شعبوں کو بھی صاف توانائی فراہم کرنے پر مرکوز ہے جن میں کاربن کے اخراج میں کمی لانا نسبتاً مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائیڈروجن ایک ایسا مؤثر حل ہے جو توانائی، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو ایک مربوط کم کاربن نظام کے تحت باہم جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پراہورو نورتجاہیو کے مطابق ہائیڈروجن کی ترقی نہ صرف 2060 تک انڈونیشیا کے خالص صفر کاربن اخراج (نیٹ زیرو ایمیشنز) کے ہدف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے بلکہ یہ توانائی میں خود کفالت، صنعتی ویلیو ایڈیشن (ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری) کے فروغ اور ملکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے جیسے قومی ترقیاتی اہداف کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہائیڈروجن حکمت عملی صدر پرابوو سوبیانتو کے "آستا چیتا” وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد قومی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، ویلیو ایڈڈ صنعتی ترقی کو فروغ دینا اور انڈونیشیا کی اقتصادی مضبوطی میں اضافہ کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے قومی ہائیڈروجن و امونیا روڈ میپ اور قومی توانائی پالیسی سے متعلق حکومتی ضابطہ نمبر 40 برائے 2025 کے ذریعے اس شعبے کے لیے ایک واضح پالیسی فریم ورک تشکیل دیا ہے۔
ان پالیسیوں میں ہائیڈروجن اور امونیا کو صنعت، بجلی کی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے نئے اور اسٹریٹجک توانائی ذرائع قرار دیا گیا ہے۔
پراہورو نورتجاہیو نے اس بات پر زور دیا کہ انڈونیشیا کی ہائیڈروجن صنعت کی کامیابی صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے سے ممکن نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے پیداوار، ذخیرہ، ترسیل، تقسیم اور استعمال کو باہم مربوط کرنے والے مکمل ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی تشکیل بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے جامع نظام کی تعمیر انڈونیشیا کو ابھرتی ہوئی علاقائی ہائیڈروجن معیشت میں قائدانہ مقام دلانے کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی اور ملک کے طویل المدتی توانائی کی منتقلی کے اہداف کے حصول میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔