
یورپ میں جنگلاتی آگ کی شدت میں خطرناک اضافہ
جنیوا، یورپ ٹوڈے: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یورپ بھر میں جنگلاتی آگ کی شدت اور وسعت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جہاں گزشتہ چار برسوں کے دوران جلنے والے رقبے میں 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق اس تشویشناک صورتحال کی بنیادی وجوہات موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور طویل خشک موسم ہیں۔
ڈبلیو ایچ او یورپ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے دوران عالمی ادارۂ صحت کے یورپی خطے میں 22 لاکھ ہیکٹر اراضی جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آئی، جبکہ 2022 میں یہ رقبہ 14 لاکھ ہیکٹر تھا۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی یورپ میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسپین اور پرتگال میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جنگلاتی آگ کے واقعات کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
اسپین میں میڈرڈ کے قریب شدید جنگلاتی آگ کے باعث حکام نے جمعہ کے روز قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی، جبکہ تقریباً 10 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ علاقائی حکام نے ان آگوں کو اس علاقے کی تاریخ کی بدترین آتش زدگی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب جنوبی فرانس میں مختلف مقامات پر بھڑکنے والی جنگلاتی آگ کے باعث تقریباً 63 ہزار افراد کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑا، جبکہ قومی حکام کے مطابق آگ سے 80 کے قریب مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
عالمی ادارۂ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگلاتی آگ نہ صرف گھروں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی، ہنگامی امدادی اداروں اور صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ کا باعث بھی بن رہی ہے، جبکہ متعدد واقعات میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔
ادارے نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت، مسلسل خشک موسم اور شہری آبادی میں اضافہ جنگلاتی آگ کے موسم کو طویل اور زیادہ خطرناک بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آگ کے واقعات کی شدت اور تعداد دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن (UNFCCC) کے ایگزیکٹو سیکریٹری سائمن اسٹیل نے بھی زور دیا کہ جنگلاتی آگ سمیت موسمیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی جانب عالمی منتقلی کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا، "آج کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہی دنیا بھر میں طویل مدتی امن اور سلامتی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔”
ڈبلیو ایچ او نے جنگلاتی آگ سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، محفوظ موقع ملنے پر آگ سے متاثرہ علاقوں سے فوری طور پر دور ہو جائیں، اور اگر دھوئیں سے بچنا ممکن نہ ہو تو مناسب حفاظتی ماسک استعمال کریں۔
عالمی ادارۂ صحت نے حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ بروقت موسمی انتباہات جاری کریں، عوام کو صحت سے متعلق واضح رہنمائی فراہم کریں، بنیادی اور ہنگامی طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائیں اور معمر افراد، بچوں اور دیگر حساس طبقات کو خصوصی معاونت فراہم کریں۔
ڈبلیو ایچ او یورپ کے مطابق ادارہ اپنے رکن ممالک کے ساتھ مل کر جنگلاتی آگ کے خطرات کا جائزہ لینے، ہنگامی تیاریوں کو بہتر بنانے، دھوئیں اور شدید گرمی سے متعلق صحت عامہ کی رہنمائی تیار کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں صحت کے نظام اور طبی مراکز کی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔