یورپی یونین

یورپی یونین کے ڈیجیٹل پراڈکٹ پاسپورٹ سے ویتنامی ٹیکسٹائل صنعت کو ڈیجیٹل تبدیلی کا چیلنج

Read Time:2 Minute, 15 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: یورپی یونین کی جانب سے 2028 کے وسط سے ملبوسات کی درآمدات کے لیے ڈیجیٹل پراڈکٹ پاسپورٹ (DPP) کی لازمی شرط نافذ کیے جانے کے اعلان کے بعد ویتنام کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس صنعت پر ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

نئے ضابطے کے تحت مصنوعات کی مکمل ٹریس ایبلٹی، پائیداری اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنا ضروری ہوگا، جس سے عالمی ٹیکسٹائل سپلائی چینز میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق ویتنامی صنعت کی ڈیجیٹلائزیشن کی موجودہ سطح محدود ہے اور نئے تقاضوں کی تکمیل کے لیے وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

ہنوئی نیشنل یونیورسٹی کے ماہر ٹران کونگ چِنہ نے کہا کہ صنعت کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ یورپی معیار کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور یکساں ڈیٹا سسٹم ابھی تک مکمل طور پر موجود نہیں ہیں۔ بیشتر کمپنیاں بکھرے ہوئے ڈیٹا نظام استعمال کر رہی ہیں، جس سے معلومات کے تبادلے اور شفافیت کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈیجیٹل پراڈکٹ پاسپورٹ کے تحت مصنوعات کی تفصیلات، تیاری کے مراحل، پیداواری مقامات، فائبر کی ساخت، کاربن فٹ پرنٹ، پانی کے استعمال، ماحولیاتی اثرات اور ری سائیکلنگ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ ہوہن اسٹائن ویتنام لیبارٹری کی جنرل ڈائریکٹر فام تھی نگوک تویین کے مطابق 2030 تک یہ نظام مختلف صنعتوں کی ایک کھرب سے زائد مصنوعات پر لاگو ہوگا، جن میں تقریباً 62.5 ارب ٹیکسٹائل اور ملبوساتی اشیا شامل ہیں۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیداری سے متعلق صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی بھی اس تبدیلی کو تیز کر رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق 60 فیصد صارفین قیمت کے مقابلے میں پائیداری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ 40 فیصد خریدار مصنوعات کے ماخذ اور پیداواری عمل سے متعلق تصدیق شدہ معلومات چاہتے ہیں۔

دریں اثنا، ویتنامی حکومت ٹیکسٹائل، جوتا سازی اور چمڑے کی صنعتوں میں ویلیو ایڈیشن بڑھانے، مقامی خام مال کے استعمال کو فروغ دینے اور عالمی سپلائی چینز میں مزید مؤثر شمولیت کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ نائب وزیر اعظم فام جیا تُک کے مطابق 2025 میں ویتنام کی ٹیکسٹائل برآمدات 46.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ یہ صنعت 18 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 2026 میں امریکی ٹیرف پالیسیوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی تجارتی تنازعات اور سخت ماحولیاتی و پائیداری معیارات کے باعث چیلنجز برقرار رہیں گے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ویتنامی کمپنیوں کو یورپی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے اور مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر شفاف اور قابل اعتماد ڈیجیٹل ڈیٹا نظام قائم کرنا ہوں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا اور جرمنی کے تعلقات میں نئی پیش رفت، صدور پرابوو سوبیانتو اور فرینک والٹر اشٹائن مائر کی اہم ملاقات
ٹرمپ Next post ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدے کا اعلان، آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی منظوری