
2026 کے پہلے نصف میں تقریباً دو لاکھ سیاحوں نے تاجکستان کے تاریخی شہر کولاب کا رخ کیا
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے قدیم تاریخی اور ثقافتی شہر کولاب نے سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے درمیان 199,206 سیاحوں نے کولاب شہر اور اس کے گرد و نواح میں واقع تاریخی، ثقافتی اور قدرتی مقامات کی سیر کی۔
کولاب کے علاقائی محکمہ برائے سیاحت کی ترقی کے مطابق مجموعی سیاحوں میں 5,738 غیر ملکی جبکہ 193,468 مقامی سیاح شامل تھے، جو اس تاریخی شہر کی بڑھتی ہوئی سیاحتی اہمیت کا واضح مظہر ہے۔
محکمہ سیاحت کے حکام نے بتایا کہ کولاب میں سیاحوں کی سہولت کے لیے جدید اور جامع انفراسٹرکچر موجود ہے، جس میں 19 ہوٹل، 16 ریسٹورنٹس، 10 ریزورٹس اور تفریحی مراکز، سات سیاحتی مقامات، پانچ زیارتی مقامات، چار عجائب گھر، چار یادگاری اشیاء کی دکانیں، چار روایتی چائے خانے اور تین سیاحتی معلوماتی مراکز شامل ہیں، جو ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
دو ہزار سات سو سال سے زائد قدیم تاریخ رکھنے والا کولاب تاجک تہذیب کے قدیم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا تاریخی، ثقافتی اور قدرتی ورثہ اسے تاجکستان کے نمایاں ترین سیاحتی مقامات میں شامل کرتا ہے۔
خطے کے معروف سیاحتی مقامات میں ضلع دانغرہ میں لیڈر آف دی نیشن میوزیم، ضلع ووسے میں ہلبک قلعہ، کولاب کی 2700ویں سالگرہ کا عجائب گھر، حضرت میر سید علی ہمدانی کا مزار اور بلجوان، خووالنگ، مومن آباد اور شمس الدین شاہین اضلاع کے دلکش قدرتی مناظر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سری خسور، چلدختران اور حضرت سلطان اویس قرنیؒ کا مزار بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔
مقامی دستکاریاں بھی کولاب کی سیاحت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ خواتین ہنرمندوں کی جانب سے تیار کی جانے والی چکن کڑھائی، پیچ ورک، روایتی کشیدہ کاری، مٹی کے برتن اور لکڑی کی ٹرے پر نقش و نگار نہ صرف تاجک ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں معاون ہیں بلکہ مقامی خاندانوں کی آمدنی میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
کولاب کے روایتی کھانے بھی سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ مقامی خواتین مختلف قومی پکوان، جن میں قلامہ، تحمول، اوشی بریدہ، اوشی پلاو، قروتوب، مانتو، شربت، شوربہ، شیربرنج، شیرروغن، شکرآب اور ناشوئستہ شامل ہیں، روایتی انداز میں تیار کرتی ہیں، جس سے سیاحوں کو تاجکستان کی ثقافتی اور غذائی روایات سے قریب سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
سیاح مقامی بازاروں، تاریخی مقامات اور ثقافتی تقریبات کے دوران ان روایتی پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان روایتی ذائقوں کا فروغ خطے میں گیسٹرونومی ٹورازم (خوراک پر مبنی سیاحت) کے مزید فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
حکام نے اس موقع پر کہا کہ سیاحت تاجکستان کی ترجیحی اور زیادہ آمدنی پیدا کرنے والی اقتصادی شعبوں میں شامل ہے، جو قومی خزانے کے لیے اہم مالی وسائل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مجموعی اقتصادی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تاجکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی وسائل کے اعتبار سے بے پناہ سیاحتی صلاحیت کا حامل ہے، اور اگر ان وسائل سے مؤثر انداز میں استفادہ کیا جائے تو آنے والے برسوں میں ملک مزید بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔