
ترکمانستان میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق بین الوزارتی کمیشن کا اجلاس، آئندہ حکمتِ عملی پر غور
اشک آباد، یورپ ٹوڈے: ترکمانستان کی وزارتِ خارجہ میں 25 جولائی کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کے شعبوں میں ترکمانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کو یقینی بنانے سے متعلق بین الوزارتی کمیشن کا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ مہینوں کے لیے ترجیحات کا تعین کیا گیا۔
اجلاس کے دوران شرکاء کو کمیشن کی رواں سال کے پہلے نصف کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کے شعبوں میں ترکمانستان کے بین الاقوامی وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
کمیشن نے 2024 تا 2026 کے بین الاقوامی انسانی قانون کے نفاذ کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر مختلف سرکاری اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے اور ایکشن پلان میں شامل اقدامات پر مسلسل اور مربوط انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس کا ایک اہم موضوع ترکمانستان کے قومی انسانی حقوق ایکشن پلان برائے 2026 تا 2030 کے مسودے پر غور تھا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مجوزہ دستاویز کا مقصد انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے قومی نظام کو مزید مضبوط بنانا، اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ کرنا اور ترکمانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مؤثر تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ رشید مردوف نے کہا کہ ترکمانستان کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسی ریاست کے انسانی ہمدردی پر مبنی اصولوں کی عکاس ہے اور یہ بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور عالمی ذمہ داریوں کی ذمہ دارانہ تکمیل کے عزم کی مظہر ہے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے بین الوزارتی کمیشن کے آئندہ کام کے لیے ترجیحی شعبوں کا تعین کیا، جن کا مقصد انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کے میدان میں ترکمانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی مؤثریت کو مزید بہتر بنانا ہے۔