مراکش

مراکش میں نیشنل پریس کونسل کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے عبوری کمیٹی قائم

Read Time:2 Minute, 40 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کی حکومت نے نیشنل پریس کونسل (سی این پی) کی ذمہ داریاں عارضی طور پر سنبھالنے کے لیے ایک عبوری کمیٹی باضابطہ طور پر قائم کر دی ہے، جو نئی کونسل کے انتخاب تک اپنے فرائض انجام دے گی۔ وزارتِ نوجوانان، ثقافت و ابلاغ نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کا قیام قانون نمبر 09.26 کے آرٹیکل 96 کے تحت عمل میں لایا گیا ہے، جو حال ہی میں نافذ العمل ہوا ہے۔

وزارت کے مطابق عبوری کمیٹی نئی نیشنل پریس کونسل کے قیام تک کونسل کے تمام قانونی اختیارات استعمال کرے گی، جبکہ پیشہ ور صحافیوں کے نمائندوں کے انتخابات، اخباری ناشرین کے نمائندوں کی تقرری اور حتمی انتخابی نتائج کے اعلان کے عمل کی نگرانی بھی اسی کے ذمے ہوگی۔

کمیٹی کی تقرری کی تقریب کی نگرانی محکمہ ابلاغ کے سیکریٹری جنرل عبدالعزیز بوجدائینی نے کی۔ کمیٹی کی سربراہی سپریم کونسل آف جوڈیشری کے نمائندہ جج حسن جابر کر رہے ہیں۔

کمیٹی کے دیگر اراکین میں نیشنل ہیومن رائٹس کونسل (CNDH) کے نمائندہ عبدالغنی بردی، اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی کونسل (CESE) کے نمائندہ محمد بنقدور، حکومت کے سربراہ کی جانب سے اخباری ناشرین کے نمائندے عبدالرحیم عریری اور پیشہ ور صحافیوں کے نمائندے یاسین العمری شامل ہیں، جنہیں بھی حکومت کے سربراہ نے نامزد کیا ہے۔

قانونی تقاضوں کے مطابق عبوری کمیٹی اپنا پہلا اجلاس پیر کے روز منعقد کرے گی، کیونکہ قانون کے تحت سرکاری گزٹ میں قانون کی اشاعت کے 10 دن کے اندر کمیٹی کا اجلاس بلانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ عبوری انتظام قانون نمبر 09.26 کی منظوری کے بعد عمل میں آیا، جس کے ذریعے نیشنل پریس کونسل کی تنظیمِ نو کی گئی۔ اس سے قبل مراکش کی آئینی عدالت نے مجوزہ قانون کی متعدد شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا، جس کے بعد حکومت نے قانون میں ترامیم کر کے اسے دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرایا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا مقصد نیشنل پریس کونسل کے نظم و نسق کو مضبوط بنانا، شفافیت میں اضافہ کرنا، عبوری دور میں صحافتی شعبے کے ضابطہ کار کے تسلسل کو یقینی بنانا، میڈیا کے خود احتسابی کے نظام کو فروغ دینا اور پریس سے متعلق قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

تاہم اس اصلاحاتی قانون نے مراکش کے صحافتی حلقوں میں بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ متعدد صحافتی تنظیموں اور آزادیٔ صحافت کے حامی اداروں نے قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون کی تیاری کے دوران صحافیوں، اخباری ناشرین اور سول سوسائٹی کو مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض شقیں نیشنل پریس کونسل کی خودمختاری کو متاثر کر سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ نیشنل پریس کونسل 2018 میں قائم کی گئی تھی اور یہ ادارہ مراکش میں صحافتی پیشے کے ضابطہ کار، پریس کارڈز کے اجرا، پیشہ ورانہ اخلاقیات کے نفاذ اور صحافیوں و میڈیا اداروں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔

کونسل کی گزشتہ منتخب مدتِ کار کئی برس قبل ختم ہو چکی تھی، جس کے بعد نئی قانونی اصلاحات کی تیاری تک عبوری انتظامات کے تحت اس کے امور چلائے جا رہے تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ویتنام Previous post ویتنام کے صدر مملکت نے سماجی بہبود، عدالتی اصلاحات اور قانونی شفافیت کے لیے تین نئے آرڈیننس نافذ کر دیے
تاجکستان Next post 2026 کے پہلے نصف میں تقریباً دو لاکھ سیاحوں نے تاجکستان کے تاریخی شہر کولاب کا رخ کیا