انڈونیشیا

انڈونیشیا اور ناروے کا ماحولیات، آبی زراعت اور توانائی منتقلی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

Read Time:1 Minute, 57 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں اپنے ناروے کے ہم منصب اسپن بارتھ ایڈے سے ملاقات کی، جس میں ماحولیات، سمندری آبی زراعت (ایکوا کلچر) اور توانائی کی منتقلی سمیت مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ دوطرفہ ملاقات آسیان وزرائے خارجہ اجلاس اور بعد از وزارتی کانفرنسوں (AMM/PMC) کے موقع پر جمعرات 23 جولائی کو منعقد ہوئی۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے ایکوا کلچر کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس میں پائیدار ماہی گیری کی جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر انتظامی طریقہ کار کو اپنانے پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منتقلی کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر بھی غور کیا تاکہ انڈونیشیا کے توانائی اور کھاد کے شعبوں میں خود کفالت کے قومی ایجنڈے کی تکمیل میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ سوگیونو نے کہا کہ "اس ضمن میں انڈونیشیا ناروے کے ساتھ سرمایہ کاری، جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔”

سوگیونو نے جنگلات کے شعبے میں انڈونیشیا اور ناروے کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس تعاون نے جنگلات کے تحفظ اور عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے جنگلات کی نگرانی، قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور پائیدار ترقی کی منصوبہ بندی کے لیے سیٹلائٹ امیجری لائسنس کے استعمال پر مبنی مشترکہ اقدامات کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اسپن بارتھ ایڈے نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں انڈونیشیا کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے اسے دنیا کے قدرتی "پھیپھڑوں” میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ناروے، انڈونیشیا کو اس شعبے میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔

ماحولیاتی اور اقتصادی تعاون کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کی مشترکہ حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

سوگیونو نے کہا کہ "انڈونیشیا جامع کثیرالجہتی اصلاحات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اقوام متحدہ کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر، فعال اور جوابدہ ادارہ بنایا جا سکے۔”

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
فرانس Previous post فرانس اور سپین میں شدید جنگلاتی آگ، تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل
آذربائیجان Next post آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی مالدیپ کے یومِ آزادی پر مبارکباد