فرانس

فرانس اور سپین میں شدید جنگلاتی آگ، تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

Read Time:1 Minute, 42 Second

پیرس، یورپ ٹوڈے: فرانس اور سپین میں تیزی سے پھیلنے والی شدید جنگلاتی آگ کے باعث تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے حکام حالیہ برسوں کی بدترین آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات میں مصروف ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق فرانس میں تقریباً 2 لاکھ افراد کو ان کے گھروں اور تعطیلات گزارنے کی رہائش گاہوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جن میں زیادہ تر جنوب مغربی شہر بورڈو کے گرد و نواح کے علاقے شامل ہیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر امن کے زمانے میں فرانس کی تاریخ کی سب سے بڑی شہری انخلا مہم ہے، جو موجودہ ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

آگ بجھانے کی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے فرانسیسی فوج نے ہفتہ کی شام سے 1,500 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ حکام نے پہلی مرتبہ A400M فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کو بھی آگ بجھانے کی کارروائیوں میں استعمال کیا، جو ایک ہی مشن میں 20 ہزار لیٹر پانی یا آگ بجھانے والا کیمیائی محلول گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ہمسایہ ملک اسپین میں حکام نے بتایا کہ دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں جنگلاتی آگ سے تقریباً 25 ہزار ہیکٹر رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ حکام نے اسے میڈرڈ کے خطے کی تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ قرار دیا ہے۔

اسپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے-مارلاسکا کے مطابق میڈرڈ کے متاثرہ علاقوں سے تقریباً 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

ادھر مشرقی اسپین کے شہر والنسیا کے قریب جنگلاتی آگ کے ایک واقعے میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

فرانس اور اسپین دونوں میں ہنگامی امدادی ادارے سخت موسمی حالات کے باوجود تیزی سے پھیلنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ حکام کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، آگ پر قابو پانا اور آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچانا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post ترکمانستان میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق بین الوزارتی کمیشن کا اجلاس، آئندہ حکمتِ عملی پر غور