
انڈونیشیا اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے انڈونیشیا-یورپی یونین جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (IEU-CEPA) کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ انڈونیشی حکام نے اس معاہدے کو جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت اور 27 رکنی یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک اہم پل قرار دیا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان وزرائے خارجہ اجلاس اور بعد از وزارتی کانفرنسوں (AMM/PMC) کے موقع پر یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس سے ملاقات کے دوران معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق سوگیونو نے کہا کہ IEU-CEPA پر دستخط دونوں فریقوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2025 میں بنیادی مذاکرات کی تکمیل کے بعد دونوں فریق معاہدے کے نفاذ کے لیے مقررہ ٹائم لائن پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ 2026 کے دوسرے نصف میں اس کی توثیق مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد معاہدہ 2027 کے اوائل میں نافذ العمل ہو سکے گا۔
رواں ماہ اس عمل نے ایک اہم مرحلہ اس وقت عبور کیا جب یورپی کمیشن نے IEU-CEPA اور اس سے منسلک سرمایہ کاری تحفظ معاہدے (IPA) پر دستخط اور حتمی منظوری کی تجاویز یورپی یونین کی کونسل کو پیش کیں۔
انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایئرلنگا ہارتارتو کے مطابق ان معاہدوں کو پہلے یورپی یونین کی کونسل کی منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس کے بعد انہیں حتمی منظوری کے لیے یورپی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جبکہ انڈونیشیا بھی اپنے داخلی توثیقی عمل کو بیک وقت آگے بڑھا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت یورپی یونین 98.5 فیصد ٹیرف لائنز پر درآمدی محصولات ختم کرے گی، برآمدی طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا اور الیکٹرک گاڑیوں، الیکٹرانکس اور دواسازی سمیت مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انڈونیشیا کو توقع ہے کہ اس معاہدے سے یورپی یونین کی منڈیوں تک اس کی برآمدات کی رسائی میں اضافہ ہوگا، مقامی مصنوعات کی مسابقت بہتر ہوگی، اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری آئے گی اور ملک کی عالمی ویلیو چینز میں شمولیت مزید مضبوط ہوگی۔
توانائی کی منتقلی میں تعاون پر اتفاق
دوطرفہ ملاقات میں تجارت کے علاوہ عالمی توانائی منتقلی کے شعبے میں تعاون کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ وزیر خارجہ سوگیونو نے انڈونیشیا کی قابلِ تجدید توانائی کی وسیع صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے اس شعبے میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون بڑھانے اور پائیدار سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے اور ان امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مضبوط شراکت داری انتہائی اہم ہے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کثیرالجہتی نظام (Multilateralism) کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔