
حکومت ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کے انضمام کے ذریعے کیش لیس معیشت کے قیام کیلئے پرعزم: عطا تارڑ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے مالیاتی شمولیت کے فروغ، شفافیت کے قیام اور بالآخر کیش لیس معیشت کے قیام کیلئے ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کے انضمام کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے پیر کو ’’زیڈ والٹ‘‘ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کو قابل رسائی، سہل اور مربوط مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے وژن پر عمل پیرا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ زِندگی، زونگ اور جے ایس بینک کے اشتراک سے زیڈ والٹ کا آغاز وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے، جو ملک میں ٹیکنالوجی کے انضمام اور کیش لیس معیشت کی جانب پیش رفت کیلئے تمام اقدامات کی قیادت کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے کیش لیس معیشت کے قیام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی خود سربراہی وہ کر رہے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی عرصے میں پنجاب میں پہلا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ قائم کیا گیا، جو ٹیکنالوجی پر مبنی پہلا سرکاری ادارہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے میں پہلی مرتبہ ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت بھی وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں متعارف کرائی گئی، جس کا مقصد دور دراز علاقوں میں تعینات سرکاری افسران کو اجلاسوں میں شرکت کیلئے لاہور آنے کی زحمت سے بچانا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’’یہیں سے ٹیکنالوجی کے فروغ، شمولیت اور کارکردگی میں اضافے کا سفر شروع ہوا۔‘‘
انہوں نے لیپ ٹاپ اسکیم پر ماضی میں ہونے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن ہی تھا جس نے کورونا وبا کے دوران معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا، جب بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے کام کر رہے تھے اور طلبہ آن لائن تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
عطا اللہ تارڑ نے زیڈ والٹ کے آغاز پر تمام متعلقہ شراکت داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس اقدام کا نہ صرف خیرمقدم کرتی ہے بلکہ اسے مکمل تعاون بھی فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ بینکنگ، ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام خدمات سمیت مختلف شعبوں کے درمیان اشتراک جہاں بھی ہوگا، حکومت وہاں بھرپور تعاون کے ساتھ موجود ہوگی۔
وفاقی وزیر نے زیڈ والٹ کے نام کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جدید نسل کے تقاضوں اور رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ کیش لیس معیشت سے متعلق اجلاس میں اس اقدام کو اجاگر کیا جائے گا اور وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بھی زیڈ والٹ کے اقدام کو شامل کیا جائے گا تاکہ دیگر ادارے بھی اس مثال کی پیروی کر سکیں۔