
ویتنام کی قومی اسمبلی نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کا قانون منظور کرلیا
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی قومی اسمبلی نے اتوار کے روز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMDs) کے پھیلاؤ کی روک تھام اور انسداد سے متعلق قانون منظور کرلیا۔ قانون کی منظوری کے لیے 474 میں سے 473 ارکان نے حق میں ووٹ دیا، جو مجموعی ارکان کا 94.60 فیصد بنتا ہے۔
یہ قانون 16ویں قومی اسمبلی کے پہلے غیر معمولی اجلاس کے دوران منظور کیا گیا۔
ووٹنگ سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع جنرل فان وان زانگ نے حکومت کی جانب سے قانون کے مسودے میں ارکان قومی اسمبلی کی تجاویز شامل کرنے اور کی جانے والی ترامیم سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کے دائرہ کار، متعلقہ اداروں، اصطلاحات اور اطلاق کے اصولوں کو مزید واضح کیا گیا ہے۔ ترامیم کا مقصد قانون کو آئین سے ہم آہنگ کرنے، ملکی قانونی نظام میں مطابقت برقرار رکھنے، بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگی یقینی بنانے اور عملی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے۔
قانون میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور اس کی مالی معاونت سے متعلق خطرات کی بنیاد پر قانونی نگرانی اور کنٹرول کا فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔ اس میں متعلقہ اداروں اور فریقین کے اختیارات، ذمہ داریوں اور قانونی بنیادوں کو واضح کیا گیا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کے مخصوص قوانین سے غیر ضروری تکرار سے گریز اور اداروں و افراد کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
قانون میں اس کے نفاذ، بین الادارہ جاتی تعاون، معلومات اور اعداد و شمار کے تبادلے، افرادی قوت اور وسائل سے متعلق طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔ مختلف اداروں کی ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کی گئی ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے نئے اداروں یا اضافی افرادی قوت کے قیام کی ضرورت نہیں ہوگی۔
جنرل فان وان زانگ نے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور انسداد ایک فوری اور بین الشعبہ جاتی ذمہ داری ہے، جس کے لیے بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
نئے قانون سے ویتنام کی قانونی صلاحیت مضبوط ہونے کی توقع ہے، جس کے ذریعے پھیلاؤ سے متعلق خطرات کی ابتدائی مرحلے میں بروقت نشاندہی اور مؤثر انداز میں تدارک ممکن ہوگا۔ قانون کا مقصد قومی آزادی و خودمختاری، قومی سلامتی اور ویتنامی عوام کی زندگیوں اور صحت کا تحفظ بھی ہے۔
حکومت کے مطابق یہ قانون ملک کی تیز رفتار اور پائیدار ترقی کے لیے ایک پُرامن اور مستحکم ماحول برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ویتنام کی ذمہ داریوں کی تکمیل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قابل اطلاق قراردادوں پر عملدرآمد کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
قانون سے سرمایہ کاری، تجارت اور سائنسی و تکنیکی تعاون کے لیے محفوظ اور شفاف ماحول کے فروغ میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے، جس سے عالمی سطح پر ویتنام کے تشخص اور ساکھ کو مزید تقویت ملے گی۔
بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور انسداد کا قانون چار ابواب اور 36 دفعات پر مشتمل ہے، جن میں عمومی احکامات، انتظامی و کنٹرول اقدامات، نفاذ کے طریقہ کار اور قانونی عملدرآمد سے متعلق امور شامل ہیں۔
یہ قانون یکم جولائی 2027 سے نافذ العمل ہوگا۔