
ویتنام اور روس کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
ماسکو، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی نائب وزیر خارجہ لے تھی تھو ہانگ اور روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکو نے ماسکو میں نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے سیاسی مشاورتی اجلاس کے دوران ویتنام اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
یہ مشاورتی اجلاس دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان تعاون کے منصوبے کے تحت منعقد ہوا۔ اجلاس میں فروری 2025 میں ہنوئی میں ہونے والے گزشتہ مشاورتی اجلاس کے بعد دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ موجودہ چیلنجز پر قابو پانے اور ویتنام روس تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں جانب سے 2026 کے بقیہ مہینوں میں اعلیٰ سطحی وفود کے متوقع تبادلوں سمیت اعلیٰ سطحی روابط کی تیاریوں میں قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ویتنامی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے آندرے رودینکو نے ویتنام کو روس کا ایک قابلِ اعتماد اور مخلص شراکت دار قرار دیا اور ایشیا بحرالکاہل خطے کے حوالے سے روس کی خارجہ پالیسی میں ویتنام کو ترجیحی حیثیت حاصل ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ویتنام کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی 14ویں قومی کانگریس کی جانب سے مقرر کردہ اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں مزید نمایاں پیش رفت کرے گا۔
نائب وزیر خارجہ لے تھی تھو ہانگ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس ویتنام کی خارجہ پالیسی میں اہم ترین شراکت داروں میں شامل رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ انہوں نے سابق سوویت یونین اور روس کی جانب سے ویتنام کو فراہم کی جانے والی قیمتی حمایت پر ویتنامی عوام کی جانب سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسے نئے دور میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے مضبوط بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ پر زور دیا کہ وہ رابطہ کاری اور نگرانی کے اپنے کردار کو مزید مضبوط بنائیں، جبکہ متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے اعلیٰ قیادت کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، تاکہ دوطرفہ تعلقات میں تعاون کے نئے سنگِ میل قائم کیے جا سکیں۔
اجلاس میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ویتنام اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون میں ہونے والی نمایاں پیش رفت اور مثبت رجحانات کو سراہا گیا۔ سیاسی تعلقات میں اس وقت مزید مضبوطی آئی جب مئی 2025 میں کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری تو لام، مارچ 2026 میں اس وقت کے وزیراعظم فام منہ چن اور جون 2026 میں وزیراعظم لے منہ ہنگ کے روس کے دوروں کے دوران طے پانے والے وعدوں پر عمل درآمد کیا گیا۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون میں بھی مثبت رفتار برقرار رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں نائب وزرائے خارجہ نے ویتنام اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ، تجارت کا فروغ اور دونوں ممالک کی مصنوعات کے لیے متوازن اور پائیدار مارکیٹ تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں ممالک نے روایتی توانائی کے شعبے میں تعاون کو جدید، ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے شعبوں تک وسعت دینے کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال شامل ہے۔
تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کو بھی دوطرفہ تعاون کے اہم شعبوں میں شامل قرار دیا گیا۔ ویتنام روس سائنسی و تعلیمی تعاون کے سال 2026 کے تحت 100 سے زائد سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2025 میں روس میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ویتنامی طلبہ کی درخواستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
دونوں فریقوں نے 2027 میں ویتنام میں روسی ثقافتی سیزن کے انعقاد کی حمایت کی اور روس میں ویتنامی زبان جبکہ ویتنام میں روسی زبان کی تدریس کو فروغ دینے کے لیے سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے مطابق ایسے اقدامات سے باہمی مفاہمت میں اضافہ ہوگا اور نوجوان نسلوں کو دونوں ممالک کی روایات سے مزید گہری واقفیت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
عالمی فورمز پر ویتنام اور روس نے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں بین الاقوامی تنظیموں، بالخصوص اقوام متحدہ میں باہمی تبادلہ خیال، رابطہ کاری اور ایک دوسرے کی حمایت کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں ممالک نے اس مشترکہ مؤقف کا اظہار کیا کہ بہتر رابطہ کاری ایشیا بحرالکاہل خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔
دونوں نائب وزرائے خارجہ نے سیاسی مشاورت کے موجودہ طریقہ کار کو مؤثر انداز میں برقرار رکھنے اور ویتنام روس جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید ٹھوس، عملی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔