نیدرلینڈز

قربان قلی بردی محمدوف کی کتاب ’’گھوڑا: وفاداری اور خوشی کی علامت‘‘ کے ڈچ ایڈیشن کی نیدرلینڈز میں رونمائی

Read Time:1 Minute, 39 Second

دی ہیگ، یورپ ٹوڈے: ترکمانستان کے قومی رہنما اور خلق مصلحتی کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف کی تصنیف ’’گھوڑا: وفاداری اور خوشی کی علامت‘‘ کے ڈچ زبان میں ترجمہ شدہ ایڈیشن کی نیدرلینڈز میں رونمائی کر دی گئی۔

کتاب کی تقریب رونمائی بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی تقریبات کے سلسلے کا حصہ تھی، جن کا مقصد ترکمانستان کے معروف اخال ٹیکے گھوڑے کے ورثے اور ترکمان گھوڑے پالنے کی روایات کو اجاگر کرنا تھا۔

تقریب میں ترکمانستان کے سائنسدانوں، پروفیسرز اور اساتذہ، طلبہ، اہم بین الاقوامی سیاسی و عوامی تنظیموں کے نمائندگان، ممتاز سائنسی و تعلیمی اداروں کے عہدیداران، سماجی شخصیات اور مختلف ممالک کے معروف گھوڑے پالنے والوں نے شرکت کی۔

ڈچ زبان میں کتاب کا ایڈیشن بین الاقوامی سائنسی و عملی کانفرنس ’’اخال ٹیکے گھوڑا: ترکمان گھوڑے پالنے کا عالمی فن‘‘ کے موقع پر وسیع حلقے کے سامنے پیش کیا گیا۔ تقریب کا افتتاح ترکمانستان کی اکیڈمی آف سائنسز کے صدر اللہ بردی اشیروف نے کیا۔

کتاب کی رونمائی کے موقع پر خطاب کرنے والوں میں بیلجیم میں ترکمانستان کے غیر معمولی و مکمل الاختیار سفیر سپار پالوانوف، یورپی اخال ٹیکے ہارس ایسوسی ایشن کی صدر ماریان ویلٹر وریدے اور ابا عنایف انٹرنیشنل اکیڈمی آف ہارس بریڈنگ کے ریکٹر پیگی بایرام دوردی یف سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔

کرونن برگ میں منعقدہ اس بین الاقوامی اجتماع میں اخال ٹیکے گھوڑے اور ترکمان گھڑ سواری کی روایات سے متعلق ایک جامع پروگرام پیش کیا گیا۔ پروگرام میں مختلف عمروں کے اخال ٹیکے گھوڑوں کے حسن اور ڈریساج مقابلے، ترکمان گھڑ سواری کے فن پر سائنسی و عملی کانفرنس، گھڑ سواری اور جمپنگ کے مقابلے، جبکہ یورپ کے بہترین اخال ٹیکے گھوڑے کے انتخاب سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔

ڈچ زبان میں کتاب کے ایڈیشن کی رونمائی سے اخال ٹیکے گھوڑے سے وابستہ ثقافتی ورثے، روایات اور اس کی منفرد خصوصیات میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی ہوتی ہے۔ اخال ٹیکے گھوڑے کو ترکمانستان کی قومی شناخت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
عزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفر Previous post عزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفر
حکومت Next post وفاقی حکومت میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف، جدید اور ڈیجیٹل بنانے پر زور