
اٹلی: جارجیا میلونی کی حکومت نے طویل ترین مسلسل حکومت کا ریکارڈ قائم کر لیا
باری، یورپ ٹوڈے: اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جنوبی شہر باری میں حکومتی حامیوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کے مسلسل طویل عرصے تک برقرار رہنے کو سیاسی استحکام کی کامیابی قرار دیا ہے۔
اے پی کے مطابق میلونی کی حکومت نے 1,414 مسلسل دن مکمل کر کے اٹلی کے جمہوری دور میں کسی ایک حکومت کے طویل ترین عرصے تک برقرار رہنے کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ سابق وزیراعظم سلویو برلسکونی کی دوسری حکومت کے پاس تھا، جو 2001 سے 2005 کے دوران 1,412 دن تک برقرار رہی۔
جلسے سے خطاب میں جارجیا میلونی نے کہا کہ سیاسی استحکام نے ان کی حکومت کو اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے اہداف پر مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے اپنی حکومت کی کامیابیوں میں روزگار میں اضافے، خاندانوں اور کاروباری اداروں کی معاونت، سرکاری مالیات کے بہتر انتظام اور عالمی سطح پر اٹلی کی ساکھ میں بہتری کو نمایاں کیا۔
میلونی نے اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے اتحاد اور استحکام کو بھی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ استحکام ان کی حکومت کی بنیادی اصلاحات میں سے ایک ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ ان کے دور حکومت میں اٹلی نے یوکرین کی حمایت جاری رکھی، یورپی اداروں کے ساتھ تعاون برقرار رکھا اور امریکا سمیت مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا۔
امیگریشن کے معاملے پر میلونی نے حکومت کی سخت پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی، پناہ کے طریقہ کار کو سخت بنانا، ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا اور البانیہ میں تارکین وطن کے مراکز سمیت دیگر اقدامات ان کی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
حکومت کے حامی ایک ملین سے زائد اضافی ملازمتوں، بے روزگاری میں کمی، بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور تارکین وطن کی آمد میں کمی کو حکومت کی نمایاں کامیابی قرار دیتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اٹلی کے دیرینہ مسائل، جن میں کم اجرتیں، کم پیداواری صلاحیت اور صحت و تعلیم سمیت عوامی خدمات کی خامیاں شامل ہیں، اب بھی بڑی حد تک حل طلب ہیں۔
میلونی کی حکومت کی غیر معمولی سیاسی پائیداری کو 2027 کے متوقع عام انتخابات سے قبل ان کی انتخابی مہم کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب سیاسی بحث کا مرکز یہ سوال بن گیا ہے کہ آیا حکومت کی کارکردگی اطالوی عوام کو اسے ایک اور مدت کے لیے منتخب کرنے پر آمادہ کر سکے گی یا نہیں۔