خون

خون سے پہلے

Read Time:4 Minute, 16 Second

وہ بوڑھا آدمی کئی دنوں سے ایک ہی سوال پر غور کر رہا تھا۔
اسے اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی۔
اتنی کہ بیٹے کے ذرا سا بیمار ہونے پر اس کی رات آنکھوں میں گزر جاتی۔ بیٹی دیر سے گھر آتی تو دروازے پر کھڑا انتظار کرتا رہتا۔ اولاد کی ایک مسکراہٹ اسے اپنے تمام دکھوں سے بڑا انعام محسوس ہوتی۔

لیکن ماں کے انتقال پر وہ اس طرح نہیں رویا تھا۔
اس نے ماں کی تدفین بھی کی، فاتحہ بھی پڑھی، لوگوں کے سامنے خاموش بھی رہا مگر اس کے اندر وہ طوفان نہیں اٹھا تھا جو آج اپنی بیٹی کی ایک معمولی تکلیف پر اٹھتا تھا۔

اسے اپنے بھائی کی موت بھی یاد تھی۔
لوگ کہتے تھے، بھائی تو سگا تھا۔
مگر "سگا” لفظ اس کے اندر وہ دروازہ نہیں کھول سکا تھا جس کے باہر ماتم کی وہ شدت کھڑی ہو جس کا لوگ ذکر کرتے تھے۔

وہ سوچتا رہا:
کیا محبت بھی رشتوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہے؟
یا محبت پہلے آتی ہے اور رشتے بعد میں بناتے ہیں؟
ایک رات اس نے اپنی چھوٹی پوتی کو سوتے دیکھا۔

بچی نے نیند میں کروٹ بدلی اور بے اختیار اپنی ماں کا نام لیا۔
بوڑھے کے دل میں کچھ ہلا۔
اس نے سوچا، ماں کی غیر موجودگی میں بھی بچہ ماں کو تلاش کرتا ہے۔
بیوی کی جدائی میں آدمی بے قرار ہو جاتا ہے۔
اپنے بچے کے آنسو انسان کو اندر تک توڑ دیتے ہیں۔

لیکن یہی انسان اپنے بوڑھے ماں باپ کو کبھی بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔
اپنے بہن بھائیوں سے برسوں بات نہیں کرتا۔
ایک ہی خون کے لوگ اجنبی ہو جاتے ہیں۔
کیوں؟

اگلی صبح وہ شہر کی ایک لائبریری میں جا بیٹھا۔
پرانے مذہبی اور فلسفیانہ متون کے درمیان بیٹھے بیٹھے اس کی نظر ایک نام پر ٹھہر گئی:
آدم۔۔۔۔
اس نے کتاب بند کردی۔
آدم۔۔۔۔
پہلا انسان۔۔۔۔
پہلا مرد۔۔۔۔
پہلا باپ۔۔۔۔
مگر بیٹا نہیں

اس کے دل میں جیسے کسی نے ایک چراغ جلایا۔
وہ دیر تک خالی صفحے کو دیکھتا رہا۔
پھر اس نے خود سے کہا:
"اگر آدم پہلے انسان تھے تو ان کی ماں کہاں تھی؟”
خاموشی۔۔۔۔
"ان کے والد؟”
خاموشی۔۔۔۔
” ان کی بہن؟ان کا بھائی؟ "
خاموشی۔۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

اسے اچانک ایک تصور نے گھیر لیا۔
ایک ایسا انسان جس نے دنیا میں آنکھ کھولی اور اپنے برابر صرف ایک دوسری ہستی کو پایا۔

نہ ماں۔
نہ باپ۔
نہ بہن۔
نہ بھائی۔
صرف ایک عورت۔
ایک رفیق۔
ایک ساتھی۔

ایک ایسا وجود جس کے ساتھ تنہائی نے پہلی بار زبان پائی اور زندگی نے پہلی بار اشتراک کا مطلب سمجھا۔
بوڑھے نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
اس کے سامنے انسانی تاریخ ایک نئے زاویے سے کھل رہی تھی۔
ہم سب نے محبت سیکھنے سے پہلے شاید محبت کی ایک پہلی صورت وراثت میں پائی ہے۔

ہم بچے کو سینے سے کیوں لگاتے ہیں؟
کیونکہ ہمارے اندر اپنے وجود کو آگے بڑھانے کی ایک قدیم خواہش ہے۔
ہم بیوی یا شوہر کی جدائی کو کیوں برداشت نہیں کر پاتے؟

کیونکہ انسان کی پہلی انسانی رفاقت شاید اسی نوع کی تھی۔

لیکن ماں؟
باپ؟
بہن؟
بھائی؟
یہ سب رشتے تو نسل کے پھیلنے کے بعد پیدا ہوئے۔

ان کے لیے انسان کو اپنے اندر محبت کی نئی جگہیں بنانی پڑیں۔
اس نے اپنی ماں کو یاد کیا۔
اسے شرمندگی ہوئی۔
وہ ماں کو چاہتا تھا مگر شاید اس محبت کی زبان اسے سکھائی گئی تھی۔
اس نے اپنے بھائی کو یاد کیا۔

اسے خیال آیا، بچپن میں بھائی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے کتنے خوب صورت تھے مگر ان لمحوں سے پہلے بھائی کا تصور تو اس کے پاس تھا ہی نہیں۔
یہ محبتیں وجود میں آنے والی محبتیں تھیں۔

اور بیوی کی محبت؟
وہ شاید انسانی تاریخ کی پہلی رفاقت کا تسلسل تھی۔
بوڑھے کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی اتر آئی۔

اس نے سوچا:
شاید اسی لیے انسان اپنی اولاد کے لیے اپنی جان دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اپنی شریک حیات کے لیے زندگی بدل دیتا ہے مگر کبھی کبھی اپنے ہی ماں باپ سے دور ہو جاتا ہے۔

شاید اسی لیے بہن بھائی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر رہ کر بھی اجنبی ہو سکتے ہیں۔

شاید خون کا رشتہ ہمیشہ دل کا رشتہ نہیں بنتا۔
اور شاید دل کا پہلا رشتہ خون کا نہیں تھا۔
گھر واپس آ کر وہ دیر تک اپنی بیوی کو دیکھتا رہا۔
پھر بچوں کو۔
اسے پہلی بار ان رشتوں کی ایک نئی ترتیب دکھائی دی۔

اس نے محسوس کیا کہ محبت صرف نسب سے نہیں آتی۔
محبت کبھی آغاز سے آتی ہے۔
کبھی ساتھ سے۔
کبھی پرورش سے۔
کبھی اختیار کیے ہوئے رشتے سے۔
اور کبھی صرف اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ انسان کسی کو اپنا کہہ کر پکارنے کے بعد خود کو مکمل محسوس کرتا ہے۔
وہ رات بھر لکھتا رہا۔

صبح اس نے آخری سطر لکھی، قلم رکھا اور دیر تک اسے دیکھتا رہا۔پھر اس کے ذہن میں یہ الفاظ گونجے:
"آدم کے والدین اور بہن بھائی نہیں تھے۔ آدم کا پہلا رشتہ بیوی کا تھا ۔شاید اس لیے اولاد آدم کے دل میں بیوی بچوں کی محبت تو ہے لیکن ماں باپ اور بہن بھائی کی محبت نہیں۔”

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایس ایم ایز کو ایکسپورٹ انشورنس کی سہولت خوش آئند ہے: وزیراعظم شہباز شریف