
ویتنام کی عالمی تجارتی تنظیم سے تجارتی صلاحیت بڑھانے اور اصلاحات میں تعاون مزید مؤثر بنانے کی اپیل
نئی دہلی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر اعظم لی منہ ہنگ نے عالمی تجارتی تنظیم (WTO) پر زور دیا ہے کہ وہ ویتنام کی تجارتی صلاحیت میں اضافے، جدید تجارتی پالیسی کی تربیت، بین الاقوامی تنازعات میں قانونی مشاورت اور تجارتی سہولت کاری کے لیے منصوبوں اور اقدامات کو مزید وسعت دے، تاکہ ملک بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں سے مؤثر طور پر استفادہ کرتے ہوئے اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنا سکے۔
ویتنامی وزیر اعظم نے یہ بات 12 ستمبر کو نئی دہلی میں عالمی تجارتی تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل نگو زی اوکونجو ایویلا سے ملاقات کے دوران کہی۔ وہ بھارت میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود تھے۔
وزیر اعظم لی منہ ہنگ نے ویتنام کے بین الاقوامی اقتصادی انضمام کے لیے عالمی تجارتی تنظیم کے تعاون اور حمایت کو سراہتے ہوئے نومبر 2026 میں ویتنام کے تیسرے تجارتی پالیسی جائزے (TPR) کی تیاری میں WTO سیکریٹریٹ کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام عالمی تجارتی تنظیم کے ایجنڈے میں فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے اور امن، تعاون اور ترقی کے لیے جامع اور متوازن عالمی تجارت کے فروغ میں تنظیم کے مرکزی کردار کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام عالمی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
ویتنامی وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنظیم کے ایجنڈے میں ڈیجیٹل تجارت، مصنوعی ذہانت (AI)، سبز منتقلی، موسمیاتی تبدیلی اور سپلائی چین کی مضبوطی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر WTO کی ڈائریکٹر جنرل نگو زی اوکونجو ایویلا نے ویتنام کو اس کی نمایاں معاشی کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالیہ معاشی اشاریے حکومت کی مضبوط معاشی نظم و نسق کی صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2007 سے 2026 تک عالمی تجارتی تنظیم کی تقریباً دو دہائیوں کی رکنیت کے دوران ویتنام WTO اور قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کی کامیابی کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ویتنام اپنے ترقیاتی اور بین الاقوامی اقتصادی انضمام کے تجربات دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بھی شیئر کرے گا۔
WTO کی سربراہ نے ویتنام کی جانب سے ماہی گیری سے متعلق سبسڈیز کے معاہدے کی توثیق اور کثیر فریقی عبوری اپیل ثالثی انتظام (MPIA) میں شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات کثیرالجہتی تجارتی نظام سے ویتنام کی مضبوط وابستگی اور ذمہ دارانہ کردار کا ثبوت ہیں۔
ویتنام کی مستقبل کی ترقیاتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے نگو زی اوکونجو ایویلا نے کہا کہ ملک اپنی منڈیوں، مصنوعات اور سپلائی چینز کو متنوع بنانے اور ویلیو چین میں مزید آگے بڑھنے کے لیے درست سمت میں گامزن ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور مائیکرو پروسیسرز سے متعلق اعلیٰ قدر کی مصنوعات کے شعبوں میں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ عالمی تجارتی تنظیم ویتنام کے بین الاقوامی اقتصادی انضمام کے عمل میں مسلسل تعاون اور معاونت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ویتنام WTO اصلاحات کی کوششوں اور دیگر ممالک کی تنظیم میں شمولیت کے عمل کی بھی حمایت کرے گا۔