انڈونیشیا

انڈونیشیا کا جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر سکیورٹی کے تحفظ اور علاقائی تعاون مضبوط بنانے پر زور

Read Time:2 Minute, 9 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ مؤقف سنگاپور انٹرنیشنل سائبر ویک 2026 کے تحت منعقد ہونے والی سائبر سکیورٹی سے متعلق آسیان وزارتی کانفرنس کے 11ویں اجلاس میں پیش کیا گیا۔

بدھ، 14 اکتوبر کو سنگاپور میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا کی قومی سائبر و کرپٹو ایجنسی (بی ایس ایس این) کے سربراہ نوگروہو سولیستیو بودی نے کہا کہ پیچیدہ ہوتے ہوئے سائبر خطرات کے پیش نظر خطے کے ممالک کے درمیان اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

جمعرات کو جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے مؤثر تحفظ کی بنیاد باہمی اعتماد، شفافیت، قومی خودمختاری کے احترام اور جامع و نتیجہ خیز تعاون پر ہونی چاہیے۔

نوگروہو نے کہا کہ انڈونیشیا قومی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیموں (سی ای آر ٹیز) کے درمیان عملی تعاون کو مزید بہتر بنانے اور اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے (سی آئی آئی) کے تحفظ کو مضبوط کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے پیدا ہونے والے خطرات، آن لائن فراڈ، رینسم ویئر حملوں اور پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی (پی کیو سی) کی جانب منتقلی سے نمٹنے کے لیے صلاحیتوں میں اضافے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

انڈونیشی عہدیدار نے آسیان کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان سے نمٹنے کی علاقائی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کی صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی شراکت داری کو وسعت دیں۔

سنگاپور کی وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی و اطلاعات جوزفین ٹیو کی زیر صدارت اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں آسیان کے رکن ممالک کے سائبر سکیورٹی سے متعلق وزرا، اعلیٰ حکام، آسیان سیکریٹریٹ کے نمائندوں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے شرکت کی۔

اجلاس کو علاقائی سائبر سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا، کیونکہ اس موقع پر آسیان کے رکن ممالک نے باضابطہ طور پر آسیان سائبر سکیورٹی تعاون کی حکمت عملی 2026-2030 کا خیرمقدم کیا۔

یہ پانچ سالہ حکمت عملی سائبر خطرات سے متعلق معلومات کے تبادلے، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے اور ہنگامی حالات میں مشترکہ ردعمل کے لیے یکساں رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔

اجلاس کے دوران انڈونیشیا نے علاقائی ڈیجیٹل نظم و نسق میں آسیان کے مرکزی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ دس رکنی تنظیم عالمی سائبر خطرات کے خلاف باہمی ہم آہنگ دفاعی نظام تشکیل دینے کے ساتھ اپنی تزویراتی خودمختاری بھی برقرار رکھ سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
فیلڈ مارشل Previous post آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے روسی وزیر داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
ویتنام Next post ویتنام اور لاؤس کا خصوصی دوستی، اسٹریٹجک ہم آہنگی اور جامع تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ